سورہ کہف آیت نمبر ۱۱۰: آیہ عمل صالح اور ولایت
اللہ سورہ کہف کی آیت ۱۱۰ میں فرماتا ہے:
قُلْ إِنَّما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحى إِلَيَّ أَنَّما إِلهُكُمْ إِلهٌ واحِدٌ فَمَنْ كانَ يَرْجُوا لِقاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صالِحاً وَ لا يُشْرِكْ بِعِبادَةِ رَبِّهِ أَحَداً؛
آپ صلیاللہعلیہوآلہ کہہ دیجئے کہ میں تو بس ایک انسان ہوں تمہاری طرح، (لیکن) میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے، پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام کی روایت
-
سماعہ بن مہران روایت کرتے ہیں:
میں نے امام صادق علیہ السلام سے اس آیت فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا کے بارے میں پوچھا۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا :
نیک عمل سے مراد ائمہ علیہمالسلام کی پہچان (معرفت) ہے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے سے مراد یہ ہے کہ امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت کو تسلیم کرے اور خلافت میں کسی نااہل شخص کو ان کا شریک نہ بنائے۔[۱]
-
ابوبصیر نقل کرتے ہیں:
امام صادق علیہالسلام نے فرمایا:
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے خاندان کی ولایت کے ساتھ دوسروں کی ولایت کو شریک نہ کرو۔ نیک عمل درحقیقت رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے خاندان کی ولایت ہے۔ جو شخص اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہراتا ہے، اس نے ہماری ولایت میں شرک کیا اور ہماری ولایت کا انکار کیا، اس نے امیرالمومنین علی علیہالسلام پر ظلم کیا اور ان کی ولایت کا انکار کیا۔”[۲]
آپ علیہالسلام نے یہ بھی فرمایا:
جو شخص خدا کی طرف سے مقرر کردہ امام کے ساتھ کسی ایسے شخص کو شریک ٹھہراتا ہے جسے خدا نے امام مقرر نہیں کیا، وہ مشرک ہے۔[۳]
امام صادق علیہالسلام سے روایت
امام صادق علیہالسلام فرماتے ہیں:
امیرالمومنین علی علیہالسلام جب وضو فرماتے تو کسی کو اپنے ہاتھ پر پانی ڈالنے نہیں دیتے تھے۔
آپ علیہالسلام سے پوچھا گیا: اے امیرالمومنین علی علیہالسلام! آپ علیہالسلام انہیں اپنے ہاتھ پر پانی ڈالنے کیوں نہیں دیتے؟
آپ علیہالسلام نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ نماز میں کسی کو شریک کروں۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔[۴]
مولائے متقیان حضرت علی علیہالسلام سے روایت
امیرالمومنین علیہالسلام فرماتے ہیں:
ایسا کوئی بندہ نہیں ہے جو آیہ قُلْ إِنَّما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوحی إِلَیَّ أَنَّما إِلهُکُمْ إِلهٌ واحِدٌ فَمَنْ کانَ یَرْجُوا لِقاءَ رَبِّهِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صالِحاً وَ لا یُشْرِکْ بِعِبادَةِ رَبِّهِ أَحَداً
سے لے کر سورے کے آخر تک تلاوت کرے، مگر یہ کہ اس کے بستر سے لے کر خانہ کعبہ تک اس کے لیے نور ہوگا۔ اور اگر وہ حرم خدا میں مقیم ہو تو اس کے لیے بیت المقدس تک نور ہوگا۔[۵]
امام موسی کاظم علیہالسلام سے روایت
امام کاظم علیہالسلام فرماتے ہیں:
جب تمہیں نماز شب کے لیے سونے کے بعد نہ اٹھنے کا خوف ہو تو سوتے وقت یہ آیت مبارکہ پڑھو:
قُلْ إِنَّما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوحی إِلَیَّ أَنَّما إِلهُکُمْ إِلهٌ واحِدٌ فَمَنْ کانَ یَرْجُوا لِقاءَ رَبِّهِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صالِحاً وَ لا یُشْرِکْ بِعِبادَةِ رَبِّهِ أَحَداً
پھر یہ دعا پڑھو:
خدایا! کچھ ایسا کر کہ میں تیرا ذکر فراموش نہ کروں،میں تیری تدبیر سے غافل نہ ہو جاؤں، مجھے غافلین میں سے نہ بنا، اور مجھے بہترین اوقات میں سے کسی وقت بیدار فرما، تاکہ میں تجھے اس وقت پکاروں اور تو میری دعا قبول کرے، میں تجھ سے مانگوں اور تو مجھے عطا کرے، میں استغفار کروں اور تو مجھے بخش دے، کیونکہ میرے گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخشتا، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے![۶]
مآخذ
[۱] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۸، ص۶۵۶ بحار الانوار، ج۳۶، ص۱۰۶/ بحار الانوار، ج۸۱، ص۳۴۹/ العیاشی، ج۲، ص۳۵۳
[۲] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۸، ص۶۵۶ بحار الانوار، ج۲۴، ص۳۷۷/ بحار الانوار، ج۸۱، ص۳۴۹/ القمی، ج۲، ص۴۷
[۳] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۸، ص۶۵۶ بحار الانوار، ج۲۳، ص۷۸
[۴] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۸، ص۶۵۸ من لایحضره الفقیه، ج۱، ص۴۳/ وسایل الشیعهًْ، ج۱، ص۴۷۷
[۵] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۸، ص۶۵۲ بحار الانوار، ج۸۹، ص۲۸۲/ ثواب الاعمال، ص۱۰۷/ بحار الانوار، ج۷۳، ص۲۰۰/ وسایل الشیعهْ، ج۶، ص۲۳۰
[۶] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۸، ص۶۵۰ بحار الانوار، ج۸۴، ص۱۷۶/ البلدالامین، ص۳۴/ ارشادالقلوب، ج۱، ص۹۱/ مصباح المتهجد، ص۱۲۳