سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمومنین علیہ‌السلام کا الہی سودا

پروردگار کے ساتھ مولائے متقیان کا سودا

سورہ توبہ کی آیات نمبر ۱۱۱ اور ۱۱۲، جن کا تذکرہ زیارت غدیریہ کے ایک مقتدر فراز (حصے) میں بھی آیا ہے، اللہ تعالیٰ اور سچے مؤمنین کے درمیان ایک ایسے عظیم سودے (معاملے) کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس میں ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا گیا ہے۔ اسلامی تفاسیر اور مستند روایات میں، اس ملکوتی سودے کا سب سے کامل، ارفع اور اتم مصداق امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ذات گرامی کو قرار دیا گیا ہے، جنہوں نے شب ہجرت (لیلتہ المبیت) اپنی جان کا سودا کر کے دین خدا کا تحفظ فرمایا۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام ایک بےمثال شخصیت تھے، جو پوری زندگی بارگاہ الٰہی میں تسلیم و رضا کا نمونہ رہے۔ آپ علیہ‌السلام نے مخلصانہ جہاد کے ذریعے بندگی اور وفاداری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ سورہ توبہ کی آیات نمبر ۱۱۱ اور ۱۱۲ کے مفاہیم و مضامین کی عملی و عینی تصویر تھے۔

سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۱۱۱

«إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَيْهِ حَقّاً فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ»

بیشک اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے عوض خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے؛ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پس وہ (دشمن کو) مارتے بھی ہیں اور خود (بھی) قتل کیے جاتے ہیں؛ یہ (وعدہ) اللہ کے ذمے ایک سچا وعدہ ہے جس کا ذکر تورات، انجیل اور قرآن (تینوں) میں ہے؛ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس تم اپنے اس سودے (معاملے) پر خوشیاں مناؤ جو تم نے اس (اللہ) سے کیا ہے؛ اور یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔

سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۱۱۲

«التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ»

(یہ سودا کرنے والے) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد و ثنا کرنے والے، روزے دار (یا راہِ خدا میں سفر کرنے والے)، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی مقرر کردہ حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں؛ اور (اے رسول!) آپ ان مؤمنین کو خوشخبری دے دیجیے۔

امام علی نقی علیہ‌السلام کی روایت کے مطابق، زیارت غدیریہ میں ان آیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیات امیرالمومنین علیہ‌السلام کے بلند و بالاتر مقام و مرتبے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔

زیارتِ غدیریہ کے ایک مقتدر فراز (حصے) میں سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۱۱۱ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیا ہے:

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ، آپ علیہ‌السلام کے چچا (حضرت حمزہ) اور آپ علیہ‌السلام کے بھائی (حضرت جعفر طیار) وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا اللہ کے ساتھ سودا کیا، پس اللہ نے آپ علیہ‌السلام کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی:

مسلّماً اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہو، (وہ مؤمنین جو) ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، (دشمن کو) قتل کرتے ہیں اور خود (بھی) شہید کر دیے جاتے ہیں، اللہ نے تورات، انجیل اور قرآن میں ان سے جنت کا سچا اور حتمی وعدہ فرمایا ہے؛ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے؟ پس (اے مؤمنو!) تم اپنے اس داد و ستد (سودے) پر خوش ہو جاؤ جو تم نے اللہ سے کیا ہے، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اسی طرح زیارت غدیریہ کے ایک اور فراز میں سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۱۲ کے ذیل میں آیا ہے:

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ، آپ کے چچا اور آپ کے بھائی وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنی جانوں کا سودا کیا، پس اللہ نے آپ کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی: مؤمنین تو وہی ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت گزار، حمد بجا لانے والے، روزے دار، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور حدود الہی کے پاسدار ہیں؛ اور آپ علیہ‌السلام مومنین کو (مغفرت، رحمت اور جنت رضوان کی) مژدہ سنا دیجیے۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو سورہ توبہ کی آیات ۱۱۱ اور ۱۱۲ میں بیان کردہ مؤمنین کے اوصاف کا کامل ترین نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ آیات قرآن کریم کی آیات علوی میں شمار ہوتی ہیں۔ بعض معتبر روایات میں تذکرہ ملتا ہے کہ لیلة المبیت (ہجرت کی رات)، جب آپ علیہ‌السلام رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کی جان کی حفاظت کی خاطر کسی بھی شک و شبہے اور خوف کے بغیر ان کے بستر پر سو گئے۔ تو آپ علیہ‌السلام کا یہ بے مثل اقدام اس الٰہی سودے کا سب سے کامل اور سچا مظہر بن کر سامنے آیا۔

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے ایک روایت میں سورہ توبہ کی آیات ۱۱۱ اور ۱۱۲ کا تذکرہ فرمایا۔ اپنے والد گرامی امام علی نقی علیہ‌السلام سے نقل کیا:

وہ عید کے دن امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے مزار مقدس پر حاضر ہوئے اور یوں گویا ہوئے:

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ علیہ‌السلام ہی سچے امیر المومنین علیہ‌السلام ہیں؛ وہی حق جس کی ولایت کا قرآن نے ببانگِ دہل اعلان کیا اور رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر آپ علیہ‌السلام کے لیے امت سے باقاعدہ عہد و پیمان لیا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ علیہ‌السلام، آپ علیہ‌السلام کے چچا اور آپ علیہ‌السلام کے بھائی وہ مخلصین ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا سودا خدا سے کیا اور اللہ نے آپ علیہ‌السلام کے بارے میں نازل فرمایا:

إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَيْهِ حَقّاً فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ * التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ۔

مآخذ
تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۶، ص۳۴۶ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۵۹

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے