سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی وفائے عہد

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی وفائے عہد

سورہ احزاب کی آیت نمبر ۱۵، جس کا تذکرہ زیارت غدیریہ کے ایک مقتدر فراز (حصے) میں بھی آیا ہے، ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک محکم عہد و پیمان باندھا تھا۔ یہ آیت کریمہ کلی طور پر الہی عہد پر قائم رہنے اور وفاداری کے موضوع پر گفتگو کرتی ہے؛ تاہم مکتب تشیع کے مفسرین کرام کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کائنات میں اللہ اور اس کے پیغمبرِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کے ساتھ کیے گئے عزم و عہد پر وفادار رہنے کا سب سے اعلیٰ اور کامل ترین نمونہ ہیں۔

سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۱۵، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ یہ آیت مؤمنین کی عہد و پیمان پر استقامت اور وفاداری کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ پایبندی ایمان کے پرچم برداروں اور اسلامی معاشرے کے معنوی و الٰہی رہنماؤں کے بارے میں بھی پوری اہمیت کے ساتھ مطرح ہوتی ہے۔ تاریخ اسلام کی برجستہ اور مقتدر شخصیت، امیرالمومنین علیہ‌السلام، ان نفوس قدسیہ کا کامل اور بےمثال نمونہ ہیں۔ آپ علیہ‌السلام خدا کے ساتھ اپنے عہد پر دل و جان سے وفادار رہے اور دینِ اسلام کے دفاع میں ثابت قدم رہے۔

سورہ احزاب کی آیت نمبر ۱۵: امیرالمومنین علیہ‌السلام کی وفائے عہد

«وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ وَكَانَ عَهْدُ اللهِ مَسْؤُولاً»

اور انہوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ (دشمن کے سامنے) پیٹھ نہیں پھیریں گے؛ اور اللہ سے کیے گئے عہد کے بارے میں ضرور بازپرس ہونی ہے۔

امام علی نقی علیہ‌السلام کی روایت کے مطابق، زیارت غدیریہ میں ان آیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیات امیرالمومنین علیہ‌السلام کے بلند و بالاتر مقام و مرتبے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔

زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:

اور (یاد کرو) خیبر کا دن، جب اللہ نے منافقین کی ذلت و شکست کو آشکار کیا اور کافروں کی جڑ کاٹ دی، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے؛ حالانکہ اس سے پہلے (معرکۂ احد میں) انہوں نے اللہ سے پکا عہد کیا تھا کہ وہ جنگ سے نہیں بھاگیں گے، (پس وہ اب) یقین رکھیں کہ اللہ کے ساتھ کیے گئے عزم و عہد کے بارے میں یقیناً سخت بازپرس کی جائے گی۔

سورہ احزاب کی آیت نمبر ۱۵، جو قرآن مجید کی آیات علوی میں شمار ہوتی ہے، (اس کا حقیقی مصداق علی کی ذات ہے؛ کیونکہ) امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے اپنی بابرکت زندگی کے تمام ادوار میں، قبول اسلام کے آغاز سے لے کر اپنی مظلومانہ شہادت تک، دین خدا کی راہ میں ہمیشہ استقامت کا مظاہرہ کیا اور ہر طرح کی قربانی کے لیے آمادہ رہے۔ اسی لیے، اگرچہ یہ آیت کریمہ (ظاہری طور پر فرار کرنے والوں کی مذمت میں ہے)، لیکن مولائے متقیان علیہ‌السلام اس شخصیت کا سب سے واضح اور روشن مصداق ہیں جس نے خدا کے ساتھ کیے گئے اپنے عہد و پیمان کی لاج رکھی اور اسے بہترین طریقے سے پورا کر دکھایا۔

صدر اسلام کے نامور محدث اور مفسر ابن عباس نے سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۱۵ کی تفسیر میں فرمایا ہے:

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ نے سمرہ (کیکر) کے درخت کے نیچے ان سے باقاعدہ یہ بیعت لی تھی کہ وہ معرکۂ کارزار سے کبھی فرار اختیار نہیں کریں گے۔[۱]

مآخذ
[۱] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۲، ص۱۰۲ بحار الانوار، ج۳۸، ص۲۱۷

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے