سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

samarra-2

ظلم کی جڑ؛ امیرالمومنین علیہ السلام کے حقِ خلافت کے غصب سے حرمِ عسکریین علیہما السلام کی بے حرمتی تک

 ۲۳ محرم ۱۴۲۷ ہجری؛ يوم انہدام حرمِ امامین عسکریین علیہماالسلام

حرمِ امامین عسکریین علیہماالسلام کی مسماری

ظلم کی ایک مسلسل کڑی ۲۳ محرم ۱۴۲۷ ہجری کو حرمِ مطہرِ امامین عسکریین علیہماالسلام کی تخریب محض ایک وقتی جرم نہیں تھا، بلکہ خاندانِ وحی سے عداوت کی اُسی طویل زنجیر کی ایک کڑی تھی، جس کا آغاز امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ‌‎السلام کا حقِ خلافت غصب کرنے سے ہوا۔

پہلا مظلوم، پہلا حقِ غصب شدہ

امام ہادی علیہ‌السلام نے فرمایا: "اے امیرالمؤمنین آپ پہلے مظلوم ہیں اور آپ ہی وہ پہلی ہستی ہیں جن کا حق غصب کیا گیا۔”
سقیفہ میں ہونے والا یہ حق تلفی کا واقعہ، اہلِ بیت علیہم‌السلام پر ڈھائے جانے والے بعد کے تمام مظالم کی بنیاد بن گیا۔

ناصبی کون ہے؟

مکتبِ تشیع میں ناصبی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو آلِ محمد علیہم‌السلام سے دشمنی رکھتا ہو۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "ناصبی وہ ہے جو تمہارے مقابل کھڑا ہو، حالانکہ وہ جانتا ہو کہ تم ہمارے محب اور پیروکار ہو۔”
ظلم کا نہ رکنے والا سلسلہ جنگِ جمل اور صفین سے لے کر واقعۂ عاشورا، آئمۂ اہلِ بیت علیہم‌السلام کی شہادتوں اور پھر ان کے شیعوں پر ہونے والے مظالم تک، یہ فتنہ ہمیشہ اہلِ بیت علیہم‌السلام کے ماننے والوں کو مٹانے کی کوشش کرتا رہا۔
حرمِ عسکریین علیہما السلام پر حملہ اہلِ بیت علیہم‌السلام اور ان کے شیعوں سے دشمنی یہاں تک پہنچی کہ دشمن، أمیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی نسل کی تمام یادگاروں کو مٹانا چاہتے تھے۔
اسی لیے ۲۳ محرم ۱۴۲۷ ہجری کو حرمِ عسکریین علیہماالسلام کے سنہرے گنبد کو شہید کر دیا گیا، اور دونوں میناروں اور سردابِ غیبت کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

ہر خیر کی بنیاد، ہر شر کی جڑ

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "ہم ہر خیر کی بنیاد ہیں اور ہمارا دشمن ہر شر کی جڑ ہے۔”
حرمِ عسکریین علیہماالسلام کی تخریب اسی شر کی عملی تصویر تھی؛ وہی کینہ پرور سوچ جس نے أمیرالمؤمنین علیہ السلام کے حق کو غصب کرنے سے آغاز کیا اور پھر خاندانِ عصمت و طہارت علیہم‌السلام پر مسلسل ظلم ڈھاتی رہی۔
نورِ ولایت کو بجھایا نہیں جا سکتا شیعیانِ اہلِ بيت علیہم‌السلام نے حرمِ مطہر کی شاندار تعمیرِ نو کے ذریعے ثابت کر دیا کہ سازشیں اور ظلم، نورِ ولایت کو کبھی بجھا نہیں سکتے۔

حوالہ‌جات
الکافی، ج ۴، ص ۵۶۹ معانی الأخبار، ج ۱، ص ۳۶۵ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج ۱۴، ص ۱۲ الکافی، ج ۸، ص ۲۴۲

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے