امیرالمؤمنین علیہالسلام امام حسن علیہالسلام اور سلمان کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوئے۔
ایک باوقار شخص آیا، سلام کیا اور عرض کیا:
"اے امیرالمؤمنین! میرے تین سوال ہیں۔”
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے امام حسن علیہالسلام سے فرمایا:
"اے ابومحمد! تم جواب دو۔”
پہلا سوال:
نیند کے وقت روح کہاں چلی جاتی ہے؟
جواب:
روح ہوا کی طرف جاتی ہے اور ہوا کے ذریعے معلق رہتی ہے۔ اگر اللہ اجازت دے تو واپس لوٹ آتی ہے، اور اگر اجازت نہ دے تو قیامت تک واپس نہیں آتی۔
دوسرا سوال:
ہمیں چیزیں یاد کیسے رہتی ہیں اور ہم بھولتے کیوں ہیں؟
جواب:
اگر تم محمد و آلِ محمد پر مکمل صلوات بھیجو تو دل روشن ہو جاتا ہے اور تمہیں یاد آ جاتا ہے۔ لیکن اگر آلِ محمد کا ذکر کیے بغیر صلوات بھیجو تو تاریکی باقی رہتی ہے اور تم بھول جاتے ہو۔
تیسرا سوال:
اولاد کبھی چچا یا ماموں کے مشابہ کیوں ہوتی ہے؟
جواب:
اگر دل مطمئن ہو تو نطفہ اصلی رگ پر قرار پاتا ہے اور وہ والدین کے مشابہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر دل بے قرار ہو تو وہ چچا یا ماموں کی رگ پر قرار پاتا ہے اور ان کے مشابہ ہو جاتا ہے۔
اس شخص نے کہا:
"میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہ کے وصی ہیں، اور حسن آپ کے وصی ہیں۔”
پھر اس نے حسین، علی بن الحسین، محمد باقر، جعفر صادق، موسیٰ کاظم، علی رضا، محمد تقی، علی نقی اور حسن عسکری علیہمالسلام کی امامت کی گواہی دی۔
اور فرمایا:
"حسین علیہالسلام کی اولاد میں سے ایک شخص قیام کرے گا اور دنیا کو عدل سے بھر دے گا۔”
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے امام حسن علیہالسلام سے فرمایا:
"اس کے پیچھے جاؤ۔”
امام حسن علیہالسلام گئے، لیکن وہ شخص نگاہوں سے اوجھل ہو چکا تھا۔
حضرت نے فرمایا:
"وہ حضرت خضر علیہالسلام تھے۔”
الکافی، کلینی، ج ۱ ، ص ٥٢٥