سورہ زمر کی آیت نمبر ۹ امیرالمومنین علیہالسلام کے بلند و بالا علمی مقام اور بے مثل تقویٰ کو ظاہر کرتی ہے۔امیرالمومنین علیہالسلام تاریخِ اسلام میں علم و حکمت کے بحر بے کراں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ متعدد احادیث آپ علیہالسلام کے علم اور بصیرت کے منفرد مقام پر تاکید کرتی ہیں۔
سورہ زمر کی آیت نمبر ۹
«أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِداً وَقَائِماً يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ»
کیا (ایسا شخص بہتر ہے) یا وہ جو رات کی گھڑیوں میں عبادت (و اطاعت) گزار ہو، سجدے کی حالت میں اور کھڑے ہو کر (عبادت کرتا ہو)، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہو؟ آپ فرما دیجیے: کیا وہ لوگ جو علم (و معرفت) رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے، برابر ہو سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ صرف عقل والے ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔
امام علی نقی علیہالسلام کی روایت کے مطابق، زیارت غدیریہ میں ان آیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیات امیرالمومنین علیہالسلام کے بلند و بالاتر مقام و مرتبے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔
زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:
پس خدا کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے آپ کو اس کے برابر قرار دیا جس نے آپ علیہالسلام سے دشمنی کی۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:
کیا وہ لوگ جو [حقائق کی] معرفت رکھتے ہیں اور وہ جو معرفت سے خالی ہیں، یکساں ہو سکتے ہیں؟ (زمر/۹)
یہ آیت مبارکہ، جو قرآنِ کریم میں آیات علوی کا حصہ شمار ہوتی ہے، ان انسانوں کی فضیلت میں ہے جو خدا کی بندگی کی راہ میں قدم بڑھاتے ہیں اور اپنی راتیں عبادت اور تفکر میں گزارتے ہیں۔ علمائے تشیع اور مفسرینِ کرام اس آیت کو امیرالمومنین علیہالسلام کی برجستہ اور منفرد صفات کا عکاس مانتے ہیں۔
امام حسن عسکری علیہالسلام نے ایک روایت میں سورہ زمر کی اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا۔ اپنے والد گرامی، امام علی نقی علیہالسلام سے نقل کیا:
وہ عید غدیر کے دن امیرالمومنین علیہالسلام کے مزار اقدس پر حاضر ہوئے اور یوں زیارت فرمائی:
اے علی! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے جو بھی قدم اٹھایا، جس چیز سے بھی خود کو روکا، جو بھی کلام فرمایا اور جہاں بھی سکوت اختیار کیا، وہ سب اللہ اور اس کے رسول (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے حکم کے مطابق تھا۔
آپ علیہالسلام نے خود فرمایا تھا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے ایک جنگ کے دوران، جب میں ان کے سامنے شمشیر زنی کر رہا تھا۔
میری طرف دیکھا اور فرمایا: اے علی علیہالسلام! میرے نزدیک تمہارا مقام وہی ہے جو موسیٰ علیہالسلام کے نزدیک ہارون علیہالسلام کا تھا، سواۓ اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور میں تمہیں اس بات سے آگاہ کرتا ہوں کہ تمہاری موت اور تمہاری زندگی میرے ساتھ اور میری ہی سنت و سیرت پر ہے۔ خدا کی قسم! نہ میں نے کبھی جھوٹ کہا اور نہ ہی مجھ سے جھوٹ بولا گیا، نہ میں کبھی گمراہ ہوا اور نہ ہی میرے ذریعے کوئی گمراہ ہوا، اور میں نے اس عہد کو کبھی فراموش نہیں کیا جو میرے پروردگار نے مجھ سے باندھا تھا۔
اور اے علی علیہالسلام! آپ علیہالسلام نے فرمایا تھا: میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک روشن نشانی (برہان) ہے، جس نشانی کو اللہ نے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے لیے بیان فرمایا تھا اور پیغمبر اکرم نے اسے میرے لیے بیان کیا، اور میں ایک بالکل واضح و روشن راستے پر ہوں۔
اے علی! میں اپنی زبان سے اعتراف کرتا ہوں کہ خدا کی قسم، آپ نے سچ فرمایا اور حق کا اظہار فرمایا۔
اللہ اس شخص پر لعنت کرے جس نے آپ علیہالسلام کو آپ علیہالسلام کے دشمن کا ہم پلہ اور مساوی قرار دیا۔
حالانکہ اللہ فرماتا ہے:
هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ’
اللہ اس شخص پر لعنت کرے جس نے آپ علیہالسلام کو اس شخص کے برابر سمجھا جس پر اللہ نے آپ علیہالسلام کی ولایت کو واجب قرار دیا تھا۔ آپ علیہالسلام اللہ کے ولی، اس کے رسول کے بھائی، اس کے دین کے مدافع ہیں اور آپ علیہالسلام وہ ہستی ہیں جس کے فضائل کو قرآن خود بیان کرتا ہے۔[۱]
عمار ساباطی (جو کہ فقهی احادیث کے معتبر راویوں میں سے ہیں) نے سورۂ زمر کی اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے:
امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا:
اللہ عزوجل نے سابقہ آیات کے بعد اپنے کلام کا رخ امیرالمومنین علیہالسلام کی طرف موڑا اور بارگاہ الٰہی میں آپ کے بلند مقام اور فضیلت کو یوں بیان فرمایا:
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِداً وَقَائِماً يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ
یعنی کیا وہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ محمد صلیاللہعلیہوآلہ اللہ کے سچے رسول اور بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں، ان لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں بلکہ انہیں (معاذ اللہ) ایک جادوگر اور جھوٹا شخص گمان کرتے ہیں؟
الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ۔
پھر امام علیہالسلام نے فرمایا: اے عمار! اس آیت کی حقیقی تاویل یہی ہے۔[۲]
علی بن ابراہیم قمی، جو شیعی راوی اور مفسر ہیں۔ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں رقم طراز ہیں:
اللہ تعالی کا یہ فرمان:
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِداً وَقَائِماً يَحْذَرُ الْآخِرَةَ
امیرالمومنین علیہالسلام کی شان میں نازل ہوا۔
پھر اللہ تعالی نے فرمایا:
اور وہ اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے!
اے رسول صلیاللہعلیہوآلہ آپ صلیاللہعلیہوآلہ فرما دیجیے:
کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے، برابر ہیں؟ صرف عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں اور اولوالالباب سے مراد عقل و خرد کے مالک لوگ ہیں۔[۳]
ابن عباس نے پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے جلیل القدر صحابی کی حیثیت سے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے:
آیت: هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ میں الَّذِينَ يَعْلَمُونَ (جاننے والوں) سے مراد امیرالمومنین علیہالسلام اور بنی ہاشم میں سے ان کا پاکیزہ اہل بیت علیہمالسلام ہے؛
اور وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (نہ جاننے والوں) سے مراد بنی امیہ ہیں؛ اور أُولُوا الْأَلْبَابِ (عقل والوں) سے مراد اہل بیت علیہمالسلام کے سچے شیعہ اور پیروکار ہیں۔[۴]
مآخذ
[۱] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۳، ص۱۹۴ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۶۳
[۲] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۳، ص۱۸۸ الکافی، ج۸، ص۲۰۴/ بحار الانوار، ج۲۴، ص۱۲۱/ تأویل الآیات الظاهرهْ، ص۵۰۰
[۳] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۳، ص۱۸۸ بحار الانوار، ج۳۵، ص۳۷۵/ القمی، ج۲، ص۲۴۵/ تأویل الآیات الظاهرهْ، ص۵۰۱؛ «قال یا محمد… العقول» محذوف/ البرها
[۴] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۳، ص۱۹۲ شواهدالتنزیل