سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

آیت ولایت امیرالمومنین علیہ‌السلام

قرآن کریم میں مولائے متقیان علیہ‌السلام کی آیت ولایت

سورہ مائدہ کی آیات نمبر ۵۴، ۵۵ اور ۵۶، جن کا تذکرہ زیارتِ غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے، ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور یہ براہ راست امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت و امامت کے معنوی و الہی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

سورہ مائدہ کی آیات نمبر ۵۴، ۵۵ اور ۵۶، ولایت اور دینِ خدا کی نصرت و مدد کے موضوع پر گفتگو کرتی ہیں۔ ان میں سے سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۵۵ آیت ولایت کے نام سے مشہور ہے۔ یہ واضح طور پر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی خلافت و امامت پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ اس آیت میں ولی کے مقتدر مفہوم پر تکیہ کیا گیا ہے۔ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو مسلمانوں کے ولی اور سرپرست کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۴

«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ»

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۵

«إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ»

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۶

«وَمَنْ يَتَوَلَّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَالِبُونَ»

امام علی نقی علیہ‌السلام کی روایت کے مطابق، زیارت غدیریہ میں ان آیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیات امیرالمومنین علیہ‌السلام کے بلند و بالاتر مقام و مرتبے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔

زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:

پس جو کچھ اللہ نے آپ علیہ‌السلام کے بارے میں اپنے نبی پر نازل فرمایا تھا، اس پر سوائے ایک قلیل جماعت کے کوئی ایمان نہ لایا، اور کثیر لوگوں کے لیے (اس حکم نے) سوائے خسارے کے کچھ نہ بڑھایا؛ اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ‌السلام کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی تھی جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے:

اے اہل ایمان! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا (تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا)، اللہ عنقریب ایسی قوم کو لائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے؛ وہ مومنوں کے سامنے نرم دل ہوں گے اور کافروں پر سخت اور مقتدر ہوں گے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے؛ اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔(مائدہ/۵۴)

(لوگو!) تمہارا سرپرست اور دوست تو صرف اللہ، اس کا رسول اور وہ مومنین ہیں [جیسے علی بن ابی طالب] جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں [حاجت مندوں کو] زکوٰۃ دیتے ہیں۔ (مائدہ/۵۵)”

اور جو لوگ اللہ، اس کے رسول اور ان مومنین کو [جیسے علی بن ابی طالب] اپنا سرپرست اور دوست بنا لیں گے (وہ اللہ کا گروہ ہیں) اور یقیناً اللہ کا گروہ ہی [ہر زمان و مکان میں] غالب آنے والا ہے۔(مائدہ/۵۶)

سورہ مائدہ کی یہ آیات ثلاثہ (تینوں آیات)، قرآن مجید کی ان آیاتِ علوی میں شمار ہوتی ہیں جو ایمان کے سچے پیروکاروں کی خصوصیات کو بیان کرتی ہیں۔ یہ آیات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ مؤمنین پر حقیقی سرپرستی، حاکمیت اور قیادت صرف اور صرف اللہ، اس کے رسول اور ان ہستیوں کا حق ہے جو ایمان لائے اور الٰہی راستے میں کامل مجاہدت کرتے ہیں۔

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے اپنے والد گرامی، امام علی نقی‌ علیہ‌السلام سے روایت کی ہے:

انہوں نے عید غدیر کے دن سورہ مائدہ کی ان آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

پس جب تم امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی زیارت کا ارادہ کرو، تو روضۂ مبارک کے دروازے پر کھڑے ہو جاؤ اور کہو: ۔۔۔ سلام ہو آپ پر اے امیر‌المومنین علیہ‌السلام ۔۔۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ علیہ‌السلام ہی اللہ تعالیٰ کی مدح و ثنا سے مخصوص کیے گئے، آپ علیہ‌السلام نے اللہ کی اطاعت میں خالص ترین اخلاص کا مظاہرہ کیا، ہدایت کے حصول کے لیے آپ علیہ‌السلام نے کسی متبادل کو پسند نہ کیا اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا؛ اور [میں گواہی دیتا ہوں] کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ‌السلام کے بارے میں اپنے نبی صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کی دعا کو مستجاب فرمایا۔

پھر اللہ نے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنی امت کے سامنے آپ علیہ‌السلام کی برتری اور ولایت کو آشکار کریں۔ جِسے اللہ نے اس سے پہلے بھی نازل فرمایا تھا جبکہ منافقین اسے سخت ناپسند کرتے تھے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِینِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِینَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِینَ يُجَاهِدُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَلا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِیهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ[۱]

امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما‌السلام نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۴ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

اس آیت سے مراد امیر‌المومنین علیہ‌السلام اور ان کے سچے اصحاب ہیں، جب انہوں نے (عہد حکومت امیر‌المومنین علیہ‌السلام میں) ناکثین (جنگ جمل)، قاسطین (جنگ صفین) اور مارقین (جنگ نہروان) کے گروہوں کے خلاف جہاد فرمایا۔[۲]

رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۵ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یوں نازل فرمایا ہے:

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ۔۔۔ وَهُمْ رَاكِعُونَ

اور یہ علی بن ابی طالب علیہ‌السلام ہیں جنہوں نے نماز قائم کی اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دی؛ اور وہ وہی ہستی ہیں جو پیوستہ اور ہر حال میں اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور تمام امور میں اسی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔[۳]

امام محمد باقر علیہ‌السلام نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۶ کے بارے میں ارشاد فرمایا:

یہ آیت مبارکہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی شان اقدس میں نازل ہوئی ہے۔[۴]

مآخذ
[۱] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۴، ص۹۶ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۶۳
[۲] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۴، ص۹۲ بحار الانوار، ج۶۶، ص۳۵۱/ البرهان/ نورالثقلین
[۳] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۴، ص۹۸ وسایل الشیعهْ، ج۹، ص۴۷۸
[۴] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۴، ص۱۲۶ البرهان/ بحار الانوار، ج۳۵، ص۱۹۷/ بحار الانوار، ج۳۷، ص۱۳۸/ بحار الانوار، ج۳۵، ص۱۹۸/ فرات الکوفی، ص۱۲۹/ شواهدالتنزیل، ج۱، ص۲۳۹

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے