سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

لیلۃ المبیت اور امیرالمومنین

لیلۃ المبیت: وہ آیت جو امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی مدح میں نازل ہوئی

سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۰۷، جس کا تذکرہ زیارت غدیریہ میں بھی آیا ہے، آیت لیلۃ المبیت یا آیت شراء (جان کا سودا کرنے کی آیت) کے نام سے معروف ہے۔ یہ آیت کریمہ شب ہجرت لیلۃ المبیت کے موقع پر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی بے مثال قربانی، ایثار اور فداکاری کی شان میں نازل ہوئی تھی۔

سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۰۷ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی اس عظیم الشان فداکاری کی طرف اشارہ ہے۔ جب آپ علیہ‌السلام نے پیغمبر اسلام صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کی جان کی حفاظت کی خاطر ان کے بستر پر آرام فرمایا۔ یہ آیت کریمہ ان نفوس قدسیہ کی ستائش کرتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی رضا و خشنودی کے حصول کے بدلے اپنی جان کا سودا کرنے (قربان کرنے) کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۰۷

«وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَاللهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ»

اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے (جیسے علی بن ابی طالب) جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے، اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔

زیارت غدیریہ کے ایک نہایت پر اثر اور رقت آمیز فراز (حصے) میں آیا ہے:

اور آپ علیہ‌السلام کی شان یہ ہے کہ جب رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ نے آپ کو اپنے بستر پر لٹایا اور آپ علیہ‌السلام کو حکم دیا کہ آپ علیہ‌السلام ان کی خواب گاہ میں آرام فرمائیں تاکہ اپنی جان کے ذریعے انہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھ سکیں، تو آپ علیہ‌السلام نے انتہائی فرمانبرداری کے ساتھ ان کی اس دعوت کو قبول فرمایا اور خود کو قتل ہونے کے لیے تیار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ‌السلام کی اس اطاعت گزاری کی قدر دانی فرمائی اور قرآن مجید میں اپنے کلام جلیل کے ذریعے آپ علیہ‌السلام کے اس خوبصورت اور مقتدر عمل سے پردہ اٹھایا، جہاں اس نے ارشاد فرمایا:

اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے۔ (بقرہ/۲۰۷)

سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۰۷ قرآن کریم کی ان آیات علوی میں سے ہے جو امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے فضائل کبریٰ میں سے ایک بہت بڑی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔

اس آیت کو آیت شراء (خرید و فروخت کی آیت) کہا جاتا ہے؛ کیونکہ اس میں مرضی الٰہی کے بدلے جان کا سودا کرنے کا تذکرہ ہے۔

امام علی نقی علیہ‌السلام نے آیت لیلۃ المبیت میں امیرالمومنین علیہ‌السلام کی لازوال فداکاری کی جانب اشارہ فرمایا۔ آپ علیہ‌السلام نے عیدِ غدیر کے دن یوں ارشاد فرمایا:

سلام ہو آپ پر اے امیر‌المومنین علیہ‌السلام! اور اے اوصیاء کے سردار! ۔۔۔ جب رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ شب کے وقت ان کے بستر پر لیٹ جائیں اور ان کی حفاظت کے لیے اپنی جان کو سپر (ڈھال) بنا لیں، تو آپ نے سرعت کے ساتھ ان کی خواہش کو لبیک کہا اور خود کو قربان ہونے کے لیے پیش کر دیا۔  پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ

کے ذریعے آپ علیہ‌السلام کی اس اطاعت کاملہ کی قدر افزائی کی اور آپ علیہ‌السلام کے عمل حسن کو رہتی دنیا تک واضح و آشکار کر دیا۔[۱]

امام زین‌العابدین علیہ‌السلام نے اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شبِ ہجرت، یعنی لیلۃ المبیت، کا واقعہ یاد فرمایا۔ آپ علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا:

یہ آیت امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی شان میں اس وقت نازل ہوئی جب وہ رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کے بستر پر سوئے تھے۔[۲]

امام محمد باقر علیہ‌السلام نے بھی مولائے متقیان علیہ‌السلام کی اس جان نثاری اور فداکاری کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

یہ آیت علی بن ابی‌طالب علیہ‌السلام کی شان میں نازل ہوئی؛ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا؛ یہ وہی رات تھی جب قریش کے کافر رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کی گھات میں تھے اور علی [نبی کی جان بچانے کے لیے] ان کے بستر پر کروٹ لے کر لیٹ گئے تھے۔[۳]

ابن عباس نے بھی شب ہجرت کے واقعے کی یاد دہانی کراتے ہوئے اس آیت کا شانِ نزول یوں بیان کیا ہے:

جس رات رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ مشرکین کے شر سے (مکہ سے) نکلے، تو علی بن ابی طالب علیہ‌السلام ان کے بستر پر سو گئے تاکہ قریش مغالطے (دھوکے) میں رہیں؛ اور یہ آیت:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ

علی بن ابی‌طالب علیہ‌السلام ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔[۴]

مآخذ
[۱] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۲، ص۱۰۸ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۶۷
[۲] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۲، ص۱۰۸ بحار الانوار، ج۱۹، ص۵۴/ الأمالی للطوسی، ص۴۴۶/ نورالثقلین/ البرهان/ بحار الانوار، ج۳۶، ص۴۲
[۳] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۲، ص۱۰۸ بحار الانوار، ج۱۹، ص۷۸/ العیاشی، ج۱، ص۱
[۴] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۲، ص۱۱۰ الامالی للطوسی، ص۲۵۲

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے