سورہ شعراء کی آیت نمبر ۲۲۷ کا امیرالمومنین علیہالسلام کے ساتھ ربط، مومنین اور قرآن کریم کے سچے پیروکاروں کے درمیان مولائے متقیان کے بلند و بالا اور مثالی مقام و مرتبہ کو ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ آپ علیہالسلام ایمان، تقویٰ اور دفاعِ حق کا سب سے اعلیٰ اور بارز نمونہ ہیں۔
سورہ شعراء کی آیت نمبر ۲۲۷: امیرالمومنین اور دفاع حق
«إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَ ذَكَرُوا اللهَ كَثِيراً وَ انْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَ سَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ»
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا، اور مظلوم واقع ہونے کے بعد (ظلم کے خلاف) بدلہ لیا (اور دفاع کیا)؛ اور ستم گاروں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس پلٹنے کی جگہ (انجام) کی طرف پلٹ کر جائیں گے۔
امام علی نقی علیہالسلام کی روایت کے مطابق، زیارت غدیریہ میں ان آیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیات امیرالمومنین علیہالسلام کے بلند و بالاتر مقام و مرتبے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔
زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:
پس جو کچھ اللہ نے آپ علیہالسلام کے بارے میں اپنے نبی پر نازل فرمایا تھا، اس پر سوائے ایک قلیل جماعت کے کوئی ایمان نہ لایا، اور (اس نزول نے) ان کے کثیر لوگوں کے لیے سوائے خسارے اور زیان کاری کے کچھ نہ بڑھایا؛ اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہالسلام کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی تھی جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے۔ اے اللہ! لعنت فرما اس شخص پر جس نے اس (آیت/ولایت) کا مقابلہ کیا، اس پر تکبر کیا، اسے جھٹلایا اور کفر اختیار کیا:
اور ستم گاروں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس پلٹنے کی جگہ کی طرف پلٹ کر جائیں گے۔ (شعراء/۲۲۷)
سورۂ شعراء کی آیت نمبر ۲۲۷، جو کہ قرآن مجید میں آیات علوی کا حصہ شمار ہوتی ہے، امیرالمومنین علیہالسلام کی ذات گرامی سے گہرا تعلق رکھتی ہے؛ کیونکہ آپ علیہالسلام ایمان، عمل صالح اور راہ حق میں دفاع کا ایک کامل ترین متبحر نمونہ تھے اور آپ علیہالسلام کی پوری زندگی صراط مستقیم پر ثبات قدم اور استقامت کے سچے اور لازوال اصولوں سے عبارت ہے۔
علی بن ابراہیم قمی نے اس آیتِ کریمہ کے حقیقی مصداق کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ:
اس سے مراد امیرالمومنین علی علیہالسلام اور ان کی (پاکیزہ) اولاد ہے۔[۱]
امام رضا علیہالسلام نے اپنے آباؤ اجداد سے مولائے متقیان کے بلند و بالا مقام و مرتبہ کے بارے میں روایت فرمائی ہے:
پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے ارشاد فرمایا:
جو شخص میرے دین کو مضبوطی سے تھامنا چاہتا ہے اور میرے بعد نجات کی کشتی میں سوار ہونے کا خواہش مند ہے، اسے چاہیے کہ وہ علی بن ابی طالب علیہالسلام کی اقتدا کرے، ان کے دشمن کو اپنا دشمن اور ان کے دوست کو اپنا دوست جانے؛ کیونکہ وہ میری زندگی میں میری امت پر میرے وصی ہیں اور میری وفات کے بعد میرے جانشین ہیں۔ میرے بعد وہ ہر مسلمان اور ہر مومن کے امیر (پیشوا) ہیں؛ ان کا کلام میرا کلام اور ان کا امر و نہی (حکم دینا اور روکنا) بالکل میرا ہی امر و نہی ہے۔ جس نے ان کی پیروی کی اور ان کی مدد کی، گویا اس نے میری پیروی کی اور میری مدد کی؛ اور جس نے ان کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا، گویا اس نے میرے ساتھ ایسا ہی کیا۔
آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے مزید ارشاد فرمایا:
جس نے میرے بعد علی علیہالسلام کو چھوڑ دیا، وہ قیامت کے دن مجھے نہیں دیکھ سکے گا اور نہ ہی میں اسے دیکھوں گا؛ اور جس نے میرے بعد علی علیہالسلام کی مخالفت کی، اللہ تعالیٰ اسے جنت سے محروم کر دے گا اور جہنم کو اس کا ٹھکانا بنا دے گا۔ جس نے (دنیا میں) علی علیہالسلام کو تنہا چھوڑ دیا، جس دن وہ بارگاہ الہی میں کھڑا ہو گا، اللہ تعالی بھی اسے تنہا چھوڑ دے گا۔ اور جس نے علی علیہالسلام کی نصرت و مدد کی، جس دن وہ اللہ سے ملاقات کرے گا، اللہ اس کی مدد فرمائے گا اور (قبر و حشر میں) بازپرس کے وقت اسے درست جواب الہام فرمائے گا۔
پھر آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے ارشاد فرمایا:
حسن اور حسین علیہماالسلام اپنے والد گرامی کے بعد میری امت کے دو امام ہیں اور وہ اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، اور ان کی والدہ فاطمہ سلاماللہعلیہا اہل جنّت کی خواتین کی سردار ہیں، اور ان کے والد علی علیہالسلام تمام اوصیاء کے سردار ہیں۔ حسین کی نسل سے نو امام ہوں گے جن میں سے نویں امام میری اولاد میں سے قائم امام مہدی علیہالسلام ہوں گے۔ ان کی فرمانبرداری میری ہی فرمانبرداری ہے اور ان کی نافرمانی میری ہی نافرمانی ہے۔ میری وفات کے بعد، ان کی فضیلت کا انکار کرنے والوں اور ان کے حقوق کو ضائع کرنے والوں کے خلاف میں بارگاہِ الٰہی میں شکایت کروں گا؛ اور اللہ بہترین کارساز و سرپرست ہے، وہ میرے اہل بیت اور میری امت کے اماموں کا بہترین مددگار ہے، اور ان کے حقوق کا انکار کرنے والوں سے سخت انتقام لینے والا ہے؛
وَ سَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُونَ (اور ستم گاروں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس پلٹنے کی جگہ کی طرف پلٹ کر جائیں گے)۔[۲]
مآخذ
[۱] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۰، ص۶۵۴ وسایل الشیعهْ، ج۲۷، ص۱۳۲
[۲] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۰، ص۶۵۶ کمال الدین، ج۱، ص۲۶۰/ البرهان