سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی پوشیدہ قبر

قبر مطہر کا پوشیدہ رہنا اور پھر آشکار ہونا

امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام نے اپنے اہل‌بیت علیہم‌السلام کو وصیت فرمائی تھی کہ آپ علیہ‌السلام کی قبر انور کو مخفی اور پوشیدہ رکھا جائے، تاکہ کینہ پرور دشمنوں کی جانب سے قبرِ مطہر کی بے حرمتی نبش قبر کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی قبر کو پوشیدہ رکھنے کی وجہ

صفوان جمال نے پوچھا تھا کہ اہلِ بیت علیہم‌السلام نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کے مرقدِ مبارک کو کیوں پوشیدہ رکھا؟

حضرت امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے اپنے صحابی صفوان جمال کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

تاکہ بنی امیہ اور خوارج کے شر اور ان کے بغض و کینے سے امان میں رہے۔[۲]

شیخ جعفر آل محبوبہ نے کتاب ’’منتخب التواریخ‘‘ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اموی حاکم حجاج بن یوسف ثقفی نے نجف میں تین ہزار قبریں کھدوائیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ شاید ان میں سے کوئی قبر امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کی قبر مطہر ہو۔

ابن طاؤس قبر شریف کو مخفی رکھنے کی حکمت کے بارے میں کہتے ہیں:

آپ علیہ‌السلام نے حالات کے تقاضوں کے مطابق پوشیدہ تدفین کی وصیت فرمائی تاکہ بنی امیہ، خوارج اور ان کے کارندوں کی سازشوں اور عداوت سے محفوظ رہا جا سکے، کیونکہ اگر ان لوگوں کو محل تدفین کا علم ہو جاتا تو وہ یقیناً نبش قبر کر دیتے۔ بنو ہاشم ان لوگوں کی عداوت اور اس کینے سے خوب واقف تھے جس کے خلافامیر‌المومنین علی علیہ‌السلام اپنی حیات مبارکہ میں برسر پیکار رہے؛ ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ اپنی شہادت کے بعد اس کینہ پروری سے محفوظ رہنے کی وصیت نہ فرماتے؟ پس، اس قبر اطہر کو پوشیدہ رکھنے میں ایسے بے شمار فوائد پوشیدہ تھے جن کا احاطہ ممکن نہیں۔[۳]

امام صادق علیہ‌السلام کے ذریعے مرقد کا آشکار ہونا

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی وصیت کے مطابق، آپ علیہ‌السلام کی قبر اطہر کا دقیق مقام نجف میں مخفی رکھا گیا۔ سنہ ۴۰ ہجری میں شہادت سے لے کر اموی حکومت کے خاتمے تک پوشیده رہا۔ اس مقام سے صرف آپ علیہ‌السلام کے فرزند اور خواص شیعہ واقف تھے۔ یہ صورت حال سنہ ۱۳۲ ہجری، مطابق ۷۴۹ء، میں عباسی سلطنت کے قیام تک برقرار رہی۔ جب اموی شرپسندی کی رکاوٹیں ختم ہوگئیں، تو امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے مرقد انور کے مقام سے پردہ اٹھایا۔ آپ علیہ‌السلام نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کے مرقد مبارک کی زیارت کا حکم بھی صادر فرمایا۔

جب اموی شرپسندی کی رکاوٹیں ختم ہوگئیں، تو حضرت امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے مرقدِ انور کے مقام سے پردہ اٹھایا۔ آپ علیہ‌السلام نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کے مرقدِ مبارک کی زیارت کا حکم بھی صادر فرمایا۔

شیخ مفید اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

حضرت علیہ‌السلام کی قبرِ شریف مسلسل مخفی رہی، یہاں تک کہ عباسی دورِ حکومت میں امام صادق علیہ‌السلام نے اس مزارِ اقدس کو آشکار فرمایا۔[۴]

خود امام صادق علیہ‌السلام سے روایت ہے:

جب میں حیرہ میں ابو العباس سفاح کے پاس تھا، تو ایک رات میں حیرۂ نجف میں، غری النعمان کے پہلو میں، امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام  کی مزارِ اقدس کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں میں نے نمازِ شب ادا کی اور طلوعِ آفتاب سے پہلے واپس لوٹ آیا۔[۵]

دوسرے عباسی خلیفہ جعفر منصور کے عہد میں بھی امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی جانب سے اس مرقدِ اقدس کی زیارت کا سلسلہ جاری رہا۔ آپ علیہ‌السلام اپنے جد امجد، سید الاوصیاء امیرالمومنین علیہ‌السلام کے روضۂ مبارک کی زیارت بارہا فرمایا کرتے تھے۔ انھی زیارتوں میں سے ایک زیارت کے دوران، امام علیہ‌السلام نے اپنے صحابی صفوان جمال کو مزار مبارک کی بازسازی اور مرمت کے لیے کچھ رقم عطا فرمائی۔

صفوان بیان کرتے ہیں:

میں نے حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا: اے میرے مولا! کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں کوفہ میں موجود اپنے شیعہ بھائیوں کو اس مزار اقدس کی موجودگی سے آگاہ کر دوں؟
آپ علیہ‌السلام نے فرمایا: ہاں۔ پھر آپ نے مجھے کچھ رقم عنایت فرمائی اور میں نے مزار مبارک کی بازسازی (تعمیر نو) کی۔[۶]

ہارون الرشید اور مرقد امیرالمومنین کا واقعہ

بدقسمتی سے قدیم و جدید دور کے بعض متاخرین (بعد میں آنے والے مورخین) نے امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کے مرقد مبارک سے متعلق روایات کے بارے میں، بغیر کسی تحقیق و تدقیق کے، خطا کی راہ اختیار کی اور حقیقت کی وادی سے دور رہے۔ بالخصوص ان کا یہ عقیدہ تھا کہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید وہ پہلا شخص تھا جس نے سنہ ۱۷۰ ہجری (۷۸۶ء) یا سنہ ۱۷۵ ہجری (۷۹۱ء) میں اس قبرِ شریف سے پردہ اٹھایا۔

وہ اس اعتراف کو نجف کے ایک علاقے میں پیش آنے والے شکار کے واقعے سے منسوب کرتے ہیں، جبکہ وہ  دانستہ یا نادانستہ طور پر ان اقدامات سے بالکل غافل رہے جو امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے سنہ ۱۳۲ ہجری میں انجام دیے تھے، جن میں مزار اقدس کے محلِ وقوع کی نشان دہی کرنا، اس پر ضریح مبارک تعمیر کرنا اور دوسروں کو حضرت علیہ‌السلام کی زیارت کا حکم دینا شامل ہے۔

پس، امام عالی مقام علیہ‌السلام کے ان عظیم الشان اقدامات کا موازنہ ایک ایسے شخص کے فعل سے کیسے کیا جا سکتا ہے جس نے اہل‌بیت علیہم‌السلام کے ساتھ دشمنی کی بنیاد رکھی، شیعیان علی پر ظلم و ستم ڈھایا، اور امام موسیٰ کاظم علیہ‌السلام کو قید خانے میں ڈالا یہاں تک کہ آپ علیہ‌السلام دشمنوں کے ہاتھوں مسموم ہو کر شہید ہو گئے؟ اور یہ دعویٰ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ایسا شخص امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام  کے مرقدِ پاک کا احترام و اکرام کرے گا؟

شیخ مفید نے کتاب "الارشاد” میں اس حکایت کو تفصیل کے ساتھ یوں نقل کیا ہے:

محمد بن زکریا، عبداللہ بن محمد سے اور وہ ابنِ عائشہ سے، وہ عبداللہ بن حازم سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ایک دن ہم ہارون الرشید کے ہمراہ شکار کی غرض سے کوفہ سے باہر نکلے اور ‘الغریین’ اور ‘ثویہ’ کے علاقوں کی طرف بڑھے۔ وہاں ہمیں ایک ہرن دکھائی دیا، ہم نے عقابوں اور شکاری جانوروں کو اس کے پیچھے دوڑایا، جنہوں نے ایک گھنٹے تک اس کا تعاقب کیا۔ وہ ہرن بھاگتے ہوئے ایک ٹیلے پر جا کھڑا ہوا، یہ دیکھ کر اچانک عقاب زمین پر اتر آئے اور شکاری جانور واپس لوٹ آئے۔ رشید اس ماجرے پر سخت حیران ہوا۔
اس ہرن نے تین مرتبہ ایسا ہی کیا؛ جیسے ہی وہ اس ٹیلے پر پہنچ کر پناہ لیتا، شکاری جانور اور عقاب اس سے دور ہٹ جاتے۔
ہارون الرشید نے کہا: جلدی کرو، اس آس پاس جو بھی ملے اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ بنی اسد کے ایک بزرگ کو لایا گیا۔
ہارون نے پوچھا: مجھے بتاؤ اس ٹیلے کی حقیقت کیا ہے؟
بزرگ نے جواب دیا: اگر آپ میری جان کی امان کا وعدہ کریں تو میں بتاؤں گا۔
ہارون نے کہا: میں عہد کرتا ہوں کہ تمہیں کبھی کوئی گزند نہیں پہنچاؤں گا۔
تب بزرگ نے کہا: میرے والد نے اپنے آبا و اجداد کے حوالے سے مجھے بتایا تھا کہ اس ٹیلے کے نیچے امیر‌المومنین علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کا مزارِ اقدس ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا حرم (پناہ گاہ) بنایا ہے کہ جو بھی اس میں پناہ لے گا، وہ مکمل امان میں رہے گا۔[۷]

بہرحال، ہارون الرشید کے ہاتھوں مزارِ اقدس کی تعمیرِ نو سے متعلق منقول تمام روایات گہری تحقیق کی متقاضی ہیں۔ ان روایات کے تاریخی شواہد اور معتبر مصادر کی روشنی میں ازسرِ نو جائزہ لینا ضروری ہے۔

ابن طاووس کی روایت اور ان کا تحقیقی جائزہ

ابن طاووس نے اس سلسلے میں ایک روایت نقل کی ہے۔ اس پر متعدد وجوہات کی بنا پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ اس روایت میں یوں ذکر ہوا ہے:

ابنِ طحال سے منقول ہے کہ: رشید نے مقبرۂ مبارک پر سفید اینٹوں سے ایک عمارت تعمیر کروائی، جو موجودہ ضریح سے چھوٹی تھی۔ جس وقت امام علیہ‌السلام کی ضریح مقدس کو کھولا گیا تو ہم نے اسے مٹی اور سیمنٹ سے بنا ہوا پایا۔ چنانچہ رشید نے حکم دیا کہ اس پر ایک قبہ (گنبد) تعمیر کیا جائے۔ یہ گنبد مٹی سے بنایا گیا تھا اور اس گنبد کے اوپر سبز رنگ کا ایک خیمہ نما تاج (چینہ دان) رکھا گیا تھا جو آج تک خزانے میں محفوظ ہے۔[۸]

شیخ محمد مہدی نجف کی تحقیق کے ساتھ شائع ہونے والی کتاب ’’فرحة الغری‘‘ کے حاشیے میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ کتاب کے نسخہ (ط) میں لفظ ’’حِبرہ‘‘ استعمال ہوا ہے، جو یمنی کپڑے کی ایک قسم ہے۔

ڈاکٹر صلاح فرطوسی کی تحقیق

استاد ڈاکٹر صلاح الفرطوسی نے اپنی تصنیف ’’مرقد و ضریحِ امیرالمومنین علیہ‌السلام‘‘ میں ہارون سے منسوب عمارت کے وجود پر کئی شکوک کا اظہار کیا ہے۔ وہ اس حوالے سے لکھتے ہیں:

اگر میں ابن طحال کی روایت کا دوبارہ جائزہ لوں تو ہم دیکھیں گے کہ یہ روایت بغیر کسی سند، مدرک اور مستند ماخذ کے نقل کی گئی ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسی روایت ہے جس کی کوئی بنیاد اور اساس نہیں ہے۔ مزار مقدس پر تیسری اور چھٹی صدی ہجری کے درمیان ایک عمارت تعمیر کی گئی تھی، اور اس مزار پر بنائی گئی تمام عمارتوں میں سے سفید گنبد والی جو عمارت سب سے زیادہ مشہور ہوئی، وہ دراصل ‘عضد الدولہ دیلمی’ کی تعمیر کردہ عمارت تھی۔[۹]

یہ جاننا بھی مناسب ہوگا کہ دمیری نے اپنی کتاب ’’حیاۃ الحیوان الکبریٰ‘‘ میں ابنِ خلکان سے ایک روایت نقل کی ہے۔ اس روایت کے مطابق، ہارون الرشید نے قبرِ مبارک پر صرف چند سنگ بنیاد رکھے تھے۔  اس کے علاوہ، اس نے وہاں کوئی باقاعدہ عمارت تعمیر نہیں کروائی تھی۔ ان کی روایت میں ہارون کے ہاتھوں کسی عظیم الشان عمارت کی تعمیر کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ایسی عمارت جو حضرت امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی قائم کردہ ضریحِ مبارک کی جگہ لے سکتی ہو۔

الدمیری لکھتے ہیں:

رشید نے اس ضریح پر پتھر لگانے (سنگ کاری) کا حکم دیا۔ یہ شاید پہلا بنیادی ڈھانچہ تھا، جس میں بعد کے مختلف ادوار بشمول سامانی، بنو حمدان، دیلمی اور بنو بویہ کے عہد میں بہت سی عمارات کا اضافہ کیا گیا۔[۱۰]

قبۃ الصلیبیہ اور ابتدائی اسلامی گنبد

مزید برآں، اس روایت کی قطعیت کو شدید شبہات میں ڈالنے والی ایک اہم دلیل بھی موجود ہے۔ ہارون الرشید کے عہد میں مقبروں پر گنبد یا قبے تعمیر کرنے کا رواج عراق میں موجود نہیں تھا۔ تاریخی طور پر مشہور ہے کہ عراق میں کسی قبر پر تعمیر ہونے والا پہلا گنبد سامرا میں بنایا گیا۔ یہ گنبد عباسی خلیفہ المنتصر باللہ بن متوکل کی قبر پر تعمیر کیا گیا۔ اس کا انتقال ۲۴۸ ہجری، مطابق ۸۶۲ء، میں ہوا۔

ڈاکٹر سعاد ماہر اس سلسلے میں رقم طراز ہیں:

خلیفہ المنتصر کی والدہ، جو یونانی الاصل تھیں، نے اپنے بیٹے کے لیے ایک ایسی ضریح کی تعمیر پر اصرار کیا تھا جو اس محل سے دور ہو جس میں وہ خود رہائش پذیر تھیں۔ اس گنبد کا نام ‘قبۃ الصلیبیہ’ رکھا گیا تھا۔[۱۱]

مصادر
الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد, الشيخ المفيد.
>مؤسسة آل البيت (عليهم‌السلام) لإحياء التراث, بيروت, لبنان, ۱۴۱۶ه.ق

 فرحة الغري في تعيين قبر أميرالمؤمنين علي (عليه‌السلام): عبدالكريم بن طاووس: ۱۲۳-۱۲۴. دار التعارف, بيروت, لبنان, ۱۴۳۱ه.ق
ماضي النجف وحاضرها: جعفر محبوبه. مطبعة الآداب, النجف الأشرف, الطبعة الثانية, ۱۹۵۸
 مرقد وضريح أمير المؤمنين عليه السلام: صلاح مهدي الفرطوسي.
>قسم الشؤون الفكرية والثقافية/ العتبة العلوية المقدسة, النجف الأشرف, الطبعة الثانية, ۱۴۳۱ه.ق/۲۰۱۰م

 حياة الحيوان الكبرى: كمال الدين محمد بن موسى الدميري.
>دار إحياء التراث العربي, بيروت, ۲۰۱۱

 مشهد الإمام علي في النجف وما به من الهدايا والتحف: سعاد ماهر, دار المعارف, مصر, ۱۳۸۸ه.ق

مآخذ
[۱]
فرحة الغري في تعيين قبر امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام: ۲۲۶
[۲] ماضي النجف وحاضرها: ۳۹
[۳] فرحة الغري في تعيين قبر امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام: ۲۲۶
[۴] الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد: ۱۰
[۵] فرحة الغري في تعيين قبر امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام: ۱۹۴
[۶] فرحة الغري في تعيين قبر امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام: ۲۳۲
[۷] الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد: ۱/ ۲۷
[۸] فرحة الغري في تعيين قبرامیر‌المومنین علی علیہ‌السلام: ۲۷۳-۲۷۴
[۹] مرقد وضريح امیر‌المومنین علیہ‌السلام: ۱۴۳-۱۴۴
[۱۰] حياة الحيوان الكبرى: ۲/ ۱۷۷
[۱۱] مشهد الإمام علي في النجف: ۱۳۳

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے