راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ شہدا کے سر دور سے اس طرح نمودار ہوئے گویا آسمان شق ہو گیا ہو۔
پس میں نے دیکھا کہ نیزوں پر اٹھائے ہوئے اٹھارہ سر تھے۔ جن میں ایک نورانی سر سب سے آگے تھا
جس کی داڑھی مبارک خون سے خضاب تھی؛ میں اس سر مبارک کے ہمراہ چلا یہاں تک کہ ہم نجف کے قریب پہنچ گئے۔
اچانک اس سرِ مبارک نے اپنا رخ نجف کی طرف کیا اور پکارا:
السلام علیک یا امیرالمومنین و رحمة الله و برکاته! اے بابا جان! کیا آپ دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے آپ کے بیٹے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
مبکی العیون, میرزا محمد تقی خلیلی قزوینی, برگ ۹۰