سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ

عربوں میں یہ رواج ہے کہ بچوں کو دستار باندھی جاتی ہے، عمامہ باندھا جاتا ہے۔ جب جنابِ علی اکبر علیہ‌السلام سات برس کے ہوئے، تو پھوپی نے کہا: "آج میں دستار باندھوں گی”۔ پھر ماں نے کہا: "میں دستار باندھوں گی”۔ پھر بہنوں نے کہا: "ہم دستار باندھیں گے”۔ مولا حسین علیہ‌السلام سوچا کرتے تھے کہ ایک دن میں بھی علی اکبر علیہ‌السلام کو عمامہ باندھوں گا۔ چنانچہ جنابِ علی اکبر علیہ‌السلام نے کہا: "بابا! آج آپ علیہ‌السلام باندھ دیں”۔ جنابِ علی اکبر علیہ‌السلام نے اپنے دونوں گھٹنے زمین پہ رکھے اور مولا حسین علیہ‌السلام نے دستار باندھنا شروع کی۔ جنابِ علی اکبر علیہ‌السلام دونوں گھٹنے زمین پہ رکھے ہوئے تھے اور مولا حسین علیہ‌السلام دستار باندھ رہے تھے۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے