عید الاضحیٰ کے دن، حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے ایک جامع خطبہ ارشاد فرمایا جو عمیق دینی معارف، شرعی احکام اور اخلاقی نصیحتوں پر مشتمل ہے۔ اس خطبے کا آغاز اللہ تعالیٰ کی بے پاں حمد و ثنا سے ہوتا ہے اور اس میں صفاتِ الٰہی کی عظمت، تقویٰ کی ضرورت، دنیا کی ناپائیداری، اور خالق و مخلوق کے مابین مومنین کی ذمہ داریوں پر زور دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش
عبدالرحمن بن جندب ایک ایسی شخصیت ہیں جو اپنے والد جندب بن عبداللہ سے حدیث روایت کرنے میں علمائے تابعین اور امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے اصحاب میں شمار ہوتے ہیں۔
وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ: "حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے عید الاضحیٰ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر تکبیر کہی اور فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد۔ تمام تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی؛ اور شکر گزاری بھی اسی کے لیے ہے کیونکہ اس نے ہمارا امتحان لیا، اور حمد و ثنا اسی اللہ کے لیے مخصوص ہے اس رزق پر جو اس نے ہمیں چوپایوں کی صورت میں عطا فرمایا۔”
الٰہی صفات اور عظمت
مولائے کائنات (علیہالسلام) نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا: "اللہ اکبر؛ اللہ کے عرش کے وزن کے برابر، اس کی رضا کے مطابق، اس کے کلمات کی وسعت کے بقدر، اور آسمانوں کے قطروں اور سمندروں کی بوندوں کی تعداد کے برابر۔ بہترین نام اسی کے لیے ہیں اور دنیا و آخرت میں حمد و ثنا بھی اسی کے لیے مخصوص ہے؛ یہاں تک کہ وہ راضی ہو جائے اور اس کی رضا سے بھی بڑھ کر، کیونکہ وہ بلند مرتبہ اور بزرگ ہے۔
اللہ سب سے بڑا ہے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے؛ قادرِ مطلق پروردگار، صاحبِ عزت، اور نہایت مہربان و شفیق جس کی رحمت سب پر محیط ہے۔ وہی جو توبہ قبول کرتا ہے، لغزشوں سے درگزر فرماتا ہے، اور جب اس کے بندے اب بھی گناہ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں، تب بھی وہ اپنے عفو و کرم سے ان کے گناہوں پر بخشش کا قلم پھیر دیتا ہے۔ اللہ کی رحمت سے گمراہوں کے سوا کوئی مایوس نہیں ہوتا۔”
توحید اور رسالت کی گواہی
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے پروردگار کی حمد و ثنا کے بعد، اللہ کی توحید کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا: "اللہ بہت بڑا ہے، سب سے بڑا، اور میں خلوصِ دل سے اقرار کرتا ہوں کہ معبودِ برحق بجز خدائے واحد کے کوئی نہیں۔ ہر صبح اور ہر شام میں اسی کی تسبیح اور مناجات کرتا ہوں۔
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں؛ ہم اسی کی حمد کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اور اسی سے مغفرت اور ہدایت کے طلبگار ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔
جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، وہ یقیناً ہدایت پا گیا اور بہت بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوا؛ اور جس نے اللہ اور اس کے نبی کی نافرمانی کی، وہ یقیناً دور دراز کی گمراہی میں مبتلا ہو گیا۔”
دنیا کی ناپائیداری سے خبردار کرنا
مولائے کائنات نے عید الاضحیٰ کے خطبے کے تسلسل میں دنیا کی ناپائیداری کے بارے میں فرمایا: "اے اللہ کے بندو! میں تمہیں تقوائے الٰہی اختیار کرنے اور موت کو کثرت سے یاد کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اس دنیا سے ہوشیار رہو جس سے تم سے پہلے لوگوں نے بھی حقیقی فائدہ نہیں پایا اور تمہارے بعد بھی یہ کسی کے لیے باقی نہیں رہے گی؛ اور جان لو کہ جو لوگ اس میں موجود ہیں، ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو گزرے ہوئے لوگوں کا ہوا ہے۔
آگاہ رہو؛ گویا دنیا ختم ہو چکی ہے اور اس نے اپنی الوداعی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کی اچھائیاں اجنبی ہو گئیں، اور یہ اپنے چاہنے والوں کو تیزی سے پیٹھ دکھا کر گزر رہی ہے؛ اس کی سرشت میں فنا رچی بسی ہے اور یہ اپنے قریب رہنے والوں کو موت کی طرف دھکیل رہی ہے۔”
ابدی سفر کی تیاری کی دعوت
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے دنیا کے فانی ہونے اور ابدی گھر کے بارے میں فصیح و بليغ انداز میں خطبے کے اگلے حصے میں یوں ارشاد فرمایا: "دنیا کی جو چیز شیریں دکھائی دیتی تھی، وہ تلخ ہو جاتی ہے؛ اور جو کچھ صاف و شفاف تھا، وہ مکدر ہو جاتا ہے۔ دنیا سے اب صرف اتنا ہی بچا ہے جیسے برتن کی تہہ میں بچا ہوا پانی یا پانی کا ایک گھونٹ؛ اتنا کم کہ اگر کوئی پیاسا اسے پی بھی لے، تو اس کی پیاس نہیں بجھتی۔
پس اے اللہ کے بندو، یہاں سے کوچ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ اور دنیا چھوڑنے کا پختہ ارادہ کر لو؛ کیونکہ کوئی بھی زندہ باقی رہنے کی طمع نہیں رکھتا اور کوئی ایسی جان نہیں جس نے موت کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا ہو۔ خبردار! لمبی امیدیں تم پر غالب نہ آ جائیں اور زندگی کے خاتمے اور اجل کو دور مت سمجھو؛ کیونکہ اس کے نتیجے میں تمہارے دل سخت ہو جائیں گے، اور شیطان کی آرزوؤں، فریبوں اور وعدوں کے دھوکے میں نہ آنا، کیونکہ شیطان تمہارا دشمن ہے اور وہ تمہاری ہلاکت و بربادی کا شدید حریص ہے۔”
زندگی کی مہلت میں خدا کی عبادت
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے مزید وضاحت فرمائی: "اے اللہ کے بندو، جب تک زندہ ہو اللہ کی عبادت کرو۔ خدا کی قسم! اگر تم غم دیدہ اور اطفال مردہ اونٹنیوں کی طرح نالہ و فریاد کرو، اور اس طرح گریہ و زاری کرو کہ تمہاری آواز غمگین کبوتروں کی طرح بلند ہو جائے، اور گوشہ نشین راہبوں کی طرح دنیا سے کنارہ کش ہو کر آہ و بکا کرو، اور اللہ کا قرب پانے، اس کی بارگاہ میں اپنے مرتبے کو بلند کرنے، یا اس گناہ کی بخشش کے لیے جسے الٰہی کاتبوں نے لکھ رکھا ہے اور فرشتوں نے درج کر دیا ہے، اپنے مال اور اولاد کو اللہ کی راہ میں نچھاور کر دو، تب بھی یہ سب اس ثواب کے مقابلے میں بہت کم ہے جس کی تم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہو اور اس عذاب کے مقابلے میں معمولی ہے جس سے تم ڈرتے ہو۔”
الٰہی نعمتوں کے سامنے انسانی اعمال کا ناچیز ہونا
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے نعمتِ حق کی عظمت کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: "خدا کی قسم! اگر تمہارے دل اس کے خوف سے بالکل پگھل جائیں اور تمہاری آنکھیں اس کے ڈر سے خون کے آنسو روئیں، اور پھر تم دنیا کی عمر کے برابر زندگی پاؤ اور بہترین اعمال انجام دو، تب بھی تمہارے اعمال خدا کی ان عظیم نعمتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں۔ تم صرف اس کی رحمت اور فضل و کرم ہی سے جنت کے مستحق بن سکتے ہو۔
اللہ ہمیں اور تمہیں عدل والے، توبہ کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والوں میں قرار دے۔”
اس دن کی برکت اور حرمت
مولائے کائنات نے عید الاضحیٰ کے دن کو ایک عظیم دن قرار دیتے ہوئے اس کے آداب و اعمال سب کے سامنے یوں یاد دلائے: "جان لو کہ آج کا دن وہ دن ہے جس کی حرمت بہت بڑی ہے، اس کی برکت کی امید رکھی جاتی ہے اور اس دن گناہوں کی مغفرت کی امید کی جاتی ہے۔
پس اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو اور توبہ، انابت، عاجزی اور تضرع کے ذریعے خود کو اس کے ثواب کا سزاوار بناؤ۔ کیونکہ وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اور مومنوں پر نہایت مہربان اور ان سے محبت کرنے والا ہے۔”
قربانی کے احکام و آداب اور شکرِ نعمت
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے اپنے خطاب کے اگلے حصے میں فرمایا:
- اگر تم میں سے کوئی قربانی کر رہا ہے، تو اسے بھیڑ کا ایک فربہ بچہ قربانی کرنا چاہیے؛ ایک چھوٹے بکرے کی قربانی اس کے برابر نہیں ہو سکتی۔
- قربانی کے کامل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ اس کی آنکھ اور کان بالکل تندرست اور سالم ہوں۔
- اگر اس کی آنکھ اور کان تندرست ہوں، تو قربانی درست اور کامل ہے؛ لیکن اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا قربانی کے وقت وہ اپنا پاؤں زمین پر گھسیٹ رہا ہو، تو یہ کافی نہیں ہے۔
- جب تم قربانی کی مراسم ادا کر لو، تو قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھاؤ، دوسروں کو بھی کھلاؤ (اطعام کرو) اور کچھ حصہ ذخیرہ بھی کر لو، اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے چوپایوں کا گوشت تمہارے لیے رزق قرار دیا۔
نماز، زکوٰۃ اور دیگر واجبات کی وصیت
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے فرمایا:
- نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، اور عبادت کو کامل اور بہترین طریقے سے بجا لاؤ.
- حق اور انصاف کی گواہی کو زندہ رکھو، اور جس چیز کو اللہ نے تم پر واجب کیا ہے، اس پر دلی رغبت اور شوق کے ساتھ کاربند رہو.
- حج، روزہ، نماز، زکوٰۃ اور ایمان کے آثار و علامات کو بجا لاؤ جو اس نے تم پر واجب کیے ہیں؛ کیونکہ الٰہی اجر بہت بڑا ہے اور اس کی خیر و برکت بہت زیادہ ہے۔
- نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔ کمزور کی مدد کرو، مظلوم کی داد رسی کرو، اور ظالم کا ہاتھ پکڑ لو اور اس شخص کو روک دو جو لوگوں کو شک و شبہ میں مبتلا کرتا ہے۔
حسنِ سلوک، سچائی اور جہاد
خطبے کے آخری حصے میں مولائے کائنات نے حاضرین کو عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: "اپنی عورتوں اور غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ گفتگو میں سچائی اختیار کرو، امانتیں ان کے مالکوں کو واپس کرو، اور عهد و پیمان کو پورا کرو۔ حق اور انصاف کی پاسداری میں مضبوط رہو اور ناپ تول پورا کرو.
اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں ڈال دے، اور مبادا وہ فریب کار شیطان تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے اور غرور میں مبتلا کر دے۔”
تلاوتِ قرآن پر خطبے کا اختتام
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے اپنے اس اہم خطبے کا اختتام ان الفاظ پر فرمایا: "بے شک سب سے زیادہ اثر انگیز نصیحت اور بہترین کلام، اللہ کا کلام ہے۔”
پھر آپ نے «أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم» پڑھا، سورۂ اخلاص کی تلاوت فرمائی، اور اس شخص کی طرح بیٹھ گئے جسے جلدی ہو؛ اس کے بعد دوبارہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: "تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے مخصوص ہیں۔ ہم اسی کی ثنا کرتے ہیں، اسی سے مدد اور ہدایت کے طالب ہیں، اسی سے مغفرت مانگتے ہیں اور اسی پر توکل کرتے ہیں۔”
پھر اس کے تسلسل میں آپ نے نمازِ جمعہ کے خطبے کے انداز میں ایک مختصر خطبہ ارشاد فرمایا۔
مآخذ
بحار الانوار، جلد ۸۸، صفحۀ ۹۹؛ مصباح المتهجد، صفحۀ ۳۶۳