پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کا یہ حکم کہ علی (علیہالسلام) کے سوا تمام اصحاب اپنے گھروں کے وہ دروازے بند کر دیں جو مسجدِ نبوی کی طرف کھلتے ہیں، محض ایک تعمیراتی یا جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی؛ بلکہ یہ ایک محکم الٰہی فرمان تھا جو امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے بے نظیر اور لاثانی مرتبے کی علامت بن کر سامنے آیا۔
دروازے بند کرنے کا تاریخی پس منظر
پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے یثرب (مدینہ منورہ) آمد کے ابتدائی ایام میں ایک مسجد کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں "مسجدِ نبوی” کے نام سے شہرت ملی۔ اس کے بعد، مسجد سے متصل کچھ حجرے (کمرے) رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) اور آپ کی بعض ازواجِ مطہرات کی سکونت کے لیے تعمیر کیے گئے۔ رفتہ رفتہ بعض جلیل القدر اصحاب نے بھی مسجد کے جوار میں اپنے لیے کمرے بنا لیے۔ ان گھروں کا ایک دروازہ باہر گلی کی طرف کھلتا تھا تو دوسرا براہِ راست مسجد کے اندر کھلتا تھا، اور اصحاب نماز کے وقت اسی اندرونی دروازے سے مسجد میں داخل ہوتے اور نماز کے بعد اسی راستے سے واپس چلے جاتے تھے۔ اسی اثناء میں رسولِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا کہ علی بن ابیطالب (علیہالسلام) کے سوا باقی تمام لوگوں کے وہ دروازے بند کر دیے جائیں جو مسجد کے اندر کھلتے ہیں۔[۱]
مسجد کے دروازے بند کرنے کی علت
پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے مایہ ناز صحابی اور امیرالمؤمنین (علیہالسلام)کے وفادار ساتھی جنابِ براء بن عازب سے روایت ہے کہ:
"اصحابِ رسول (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے ایک گروہ کے مکانات اس طرح تعمیر تھے کہ ان کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے۔ ایک دن رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے (حکمِ الٰہی کے تحت) ارشاد فرمایا: ‘امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے دروازے کے علاوہ باقی یہ تمام دروازے جو مسجد کی طرف کھلتے ہیں، ہمیشہ کے لیے بند کر دیے جائیں۔'”
براء کہتے ہیں کہ: "اس اچانک حکم پر بعض لوگوں نے آپس میں باتیں بنانا شروع کر دیں (اور اعتراض کی صورت پیدا ہوئی)۔
یہ دیکھ کر رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) منبر پر تشریف فرما ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بجا لائے اور پھر فرمایا: ‘امّا بعد؛ مجھے اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ علی بن ابی طالب (علیہالسلام) کے گھر کے سوا باقی تمام دروازے بند کر دوں۔’ پھر آپ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے معترضین کی طرف رخ کر کے فرمایا: ‘میں نے اپنی مرضی سے نہ تو کوئی دروازہ بند کیا ہے اور نہ ہی کھولا ہے؛ بلکہ مجھے ایک امر (حکمِ الٰہی) کا مکلف کیا گیا تھا اور میں نے صرف اسی کی پیروی کی ہے۔'”[۲]
بے نظیر اور بے مثال فضائل کا تذکرہ
تابعین اور دوسری صدی ہجری کے نامور محدث جنابِ عمرو بن میمون مولائے متقیان کے بے شمار فضائل کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ: "ایک دن ایک محفل میں امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کا ذکرِ خیر چھڑا۔ انہوں نے (مخالفین کو تنبیہ کرتے ہوئے) کہا: ‘جو کوئی علی بن ابی طالب (علیہالسلام) کی بدگوئی یا عیب جوئی کرتا ہے، وہ درحقیقت خود کو جہنم کا ایندھن بنا رہا ہے۔'”
پھر انہوں نے مزید کہا: "میں نے حذیفہ بن یمان اور کعب بن عجرہ جیسے عظیم اصحابِ رسول (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) سے سنا ہے، وہ فرماتے تھے کہ امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام)کو وہ فضائل حاصل ہیں جو روئے زمین پر کسی دوسرے انسان کو عطا ہی نہیں کیے گئے:
۱. سیدہ فاطمہ (سلاماللہعلیہا) کے ساتھ عقدِ زوجیت: وہ کائنات کی اولین و آخرین تمام خواتین کی سیدہ اور برتر خاتون کے شوہر ہیں۔ کیا اگلوں اور پچھلوں میں کوئی فاطمہ (سلاماللہعلیہا) کا ہمسر و نظیر ڈھونڈ سکتا ہے؟
۲. حسنین (علیہالسلام) کی پدری کا شرف: وہ ان امام حسن اور امام حسین (علیہماالسلام) کے والدِ گرامی ہیں جو جوانانِ جنت کے سردار ہیں۔ اے لوگو! بتاؤ تو سہی، کائنات میں ان دونوں جیسا کوئی اور پایا جاتا ہے؟
۳. رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کی قرابت اور وصایت: وہ رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے داماد ہیں اور آپ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے اہل و عیال میں آپ کے وصی ہیں۔ تمام اصحاب میں سے صرف ان کے گھر کا دروازہ مسجد کے لیے کھلا رکھا گیا۔
۴. خیبر کی دلیری اور نصرت: وہ فاتحِ خیبر ہیں اور اس تاریخی دن کے علمدار ہیں۔ اسی دن رسولِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی دُکھتی ہوئی آنکھوں پر اپنا لعابِ دہن لگایا تھا، جس کے بعد آپ (علیہالسلام) نے زندگی بھر کبھی آنکھوں کے درد کی شکایت نہیں کی اور نہ ہی کبھی گرمی اور سردی کی شدت نے آپ (ع) کو نقصان پہنچایا۔
۵. واقعۂ غدیر کا تاج: وہ غدیر کے معرکے کے اصل مرکز ہیں؛ جہاں پیامبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے واشگاف الفاظ میں امت پر ان کی ولایت کو واجب قرار دیا اور ان کے الٰہی مقام کا تعارف کرواتے ہوئے پوچھا: ‘اے لوگو! تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق دار کون ہے؟’ سب نے کہا: اللہ اور اس کا رسول۔ تب آپ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے فرمایا: ‘جس جس کا میں مولیٰ ہوں، یہ علی اس کے مولیٰ ہیں۔’
۶. طہارتِ باطنی اور معنوی مقام: وہ اصحابِ کساء (اہلِ عبا) میں شامل ہیں؛ یہ وہی پاکیزہ ہستیاں ہیں جن کے بارے میں خدا نے فرمایا کہ ان سے ہر قسم کی رجس (پلیدی) کو دور رکھا گیا اور انہیں ایسا پاک کیا جیسا پاک کرنے کا حق ہے۔
۷. بارگاہِ الٰہی میں محبوبیت (حدیثِ طائر): وہ "حدیثِ طائر” (پرندے والے واقعے) کے مصداق ہیں، جب رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے دعا فرمائی تھی: ‘بارِ الٰہا! اپنی مخلوق میں سے اس شخص کو میرے پاس بھیج جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔’ پس امیر المؤمنین (علیہ السلام) حاضر ہوئے اور آپ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے ساتھ تناول فرمایا۔
۸. سورۂ برائت کے امین: جب جبرئیلِ امین نے پیامبر (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) پر سورۂ برائت نازل کی، حالانکہ ابوبکر اسے لے کر روانہ ہو چکے تھے؛ تب آپ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کو وحی کے ذریعے روکا گیا اور فرمایا گیا: ‘اے محمد! اس سورت کی ابلاغ آپ کے یا امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کے سوا کوئی نہیں کر سکتا؛ وہ آپ سے ہیں اور آپ ان سے ہیں۔’ اور رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کا یہ رشتہ ان کی زندگی میں بھی رہا اور وفات کے بعد بھی۔
۹. علم کا دروازہ: وہ نبوت کے علم کا خزینہ ہیں؛ وہی جن کے بارے میں رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے ارشاد فرمایا: ‘میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں؛ پس جو کوئی علم کا خواہاں ہے، اسے چاہیے کہ وہ اسی دروازے سے آئے۔’ جیسا کہ خود قرآنِ مجید کا حکم ہے: ‘اور گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو دیکھو۔’
عمرو بن میمون نے اپنی گفتگو کے آخر میں فرمایا: ‘وہ جنگوں کے کٹھن حالات میں رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے دکھوں اور سختیوں کو دور کرنے والے (کاشف الکرب) تھے۔ وہ سب سے پہلے شخص تھے جو پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق کی، آپ کی پیروی کی اور وہ زمین پر سب سے پہلے نمازی ہیں۔ پس اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے اور کسی دوسرے کو علی (علیہالسلام) کے برابر لا کھڑا کرے یا کسی انسان کو ان جیسا سمجھے؟'” [۳]
حدیثِ سدّ الابواب کا آیتِ تطهیر سے گہرا ربط
سلطان الملوک علامہ امینی رحمہ اللہ اپنی معرکہ آراء کتاب "الغدیر” میں فرماتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کا اس واقعے سے استدلال کرنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کا مولائے متقیان کے سوا تمام لوگوں کے دروازے بند کرنے کا حکم، دراصل آیتِ تطہیر کے تناظر میں اور براہِ راست حکمِ الٰہی کے تحت تھا۔ [۴]
شیعہ اور اہل سنت کے متعدد مصادر اور روایات میں نقل ہوا ہے کہ رسولِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے فرمایا:
"میری اس مسجد میں کسی بھی ایسے شخص کا (حالتِ جنابت یا ناپاکی میں) آنا یا گزرنا شرعاً جائز نہیں ہے جو پاک نہ ہو، سوائے میری ذات کے اور علی بن ابی طالب (علیہالسلام) کے۔”
اسی الٰہی قانون کے تحت، مسجدِ نبوی کی طرف کھلنے والے تمام گھروں کے دروازے ہمیشہ کے لیے مقفل کر دیے گئے اور صرف امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کا دروازہ کھلا رہنے دیا گیا، کیونکہ آپ (علیہالسلام) اسی مطہر اہل بیت کا حصہ تھے جن کی شان میں آیتِ تطہیر نازل ہوئی تھی۔ [۵]
شوریٰ کے سامنے واقعۂ سدّ الابواب سے استدلال
تیسرے خلیفہ کے انتخاب کے لیے تشکیل دی جانے والی چھ رکنی انتخابی شوریٰ کے دوران، امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) نے "سدّ الابواب” کی اس عظیم فضیلت کا تذکرہ کر کے ارکانِ شوریٰ کو اپنے منفرد مقام کی یاد دہانی کروائی۔ آپ (علیہالسلام) نے ان کی طرف رخ کر کے فرمایا:
"کیا تمہارے درمیان کوئی ایک بھی ایسا شخص موجود ہے جسے کتابِ الٰہی (قرآن) نے اس طرح پاک و طاہر قرار دیا ہو، جس طرح پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے تمام مہاجرین کے گھروں کے دروازے مسجد کے لیے بند کر دیے اور صرف میرے گھر کا دروازہ کھلا رکھا؟”
(آپ علیہالسلام کا یہ جملہ سن کر شوریٰ کے ارکان کو یاد آیا کہ) اس وقت پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے چچا حضرت حمزہ (سید الشہداء) اور حضرت عباس بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تھے اور عرض کیا تھا: "اے اللہ کے رسول (صلیاللہعلیہوآلہوسلم)! آپ نے ہمارے دروازے تو بند فرما دیے لیکن علی (علیہالسلام) کا دروازہ کھلا رہنے دیا؟”
تب پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے جواب میں فرمایا تھا: "میں نے اپنی مرضی سے نہ تو تمہارے دروازے بند کیے ہیں اور نہ ہی ان کا دروازہ کھولا ہے؛ بلکہ یہ پروردگارِ عالم ہے جس نے تمہارے دروازے بند کروائے اور علی (علیہالسلام) کا دروازہ کھلا رکھا۔”[۶]
الٰہی فرمان کے تحت دروازوں کی بندش
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے بنی شوریٰ کے سامنے مزید فرمایا:
"کیا میرے سوا تمہارے درمیان کوئی ایسا ہے جسے رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے یہ فرمایا ہو کہ: ‘اے علی! تم سے مؤمن کے سوا کوئی محبت نہیں کرے گا اور منافق و کافر کے سوا کوئی تم سے دشمنی نہیں رکھے گا؟'”
سب نے جواب دیا: "خدا کی قسم، نہیں!”
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے پھر پوچھا: "کیا تم جانتے ہو کہ پیغمبر اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے تمہیں اپنے گھروں کے دروازے بند کرنے کا حکم دیا اور میرا دروازہ کھلا رکھا، اور تم نے اس پر آپس میں باتیں کیں؛ تو رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا کہ: میں نے اپنی مرضی سے تمہارے دروازے بند نہیں کیے اور نہ ہی علی کا دروازہ کھولا ہے، بلکہ اللہ نے تمہارے دروازے بند کیے اور اس کا دروازہ کھلا رکھا ہے؟”
شوریٰ کے تمام ارکان نے یک زبان ہو کر تصدیق کی: "جی ہاں، ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔”[۷]
مظهرِ تقویٰ؛ سید حمیری کے ادبی اشعار
عظیم اور نامور شاعر سید حمیری نے اپنے فصیح عربی اشعار میں واقعۂ «سدّ الابواب» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا ہی خوبصورت منظر کشی کی ہے:
” پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کو بارگاہِ الٰہی سے یہ محکم حکم دیا گیا تھا کہ وہ مسجدِ نبوی کے صحن میں کھلنے والے تمام انسانی دروازوں کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیں، سوائے علی بن ابی طالب (علیہالسلام) کے گھر کے دروازے کے؛ کیونکہ علی (علیہالسلام) کی ذاتِ گرامی کائنات میں زہد اور تقویٰ کا حقیقی مَظہر اور جلوہ ہے۔”[۸]
مآخذ
[۱] ابن کثیر، البدایه و النهایه، ج۷، ص۳۴۲؛ فتال نیشابوری، روضة الواعظین، ص۱۱۸؛ ابن حنبل، فضائل امیرالمؤمنین، ص۱۷۷
[۲] بحار الانوار، جلد ۳۹، صفحۀ ۳۲
[۳] امالی طوسی، جلد ۱، صفحۀ ۵۵۸
[۴] امینی، الغدیر، ج۳، ص۲۱۳
[۵] امینی، الغدیر، ج۳، ص۲۱۲؛ قاضی نعمان، شرح الاخبار، ج۲، ص۲۰۴
[۶] الغدیر، جلد ۳، صفحۀ ۳۰۱
[۷] عوالم العلوم، جلد ۱۵، صفحۀ ۲۲۷
[۸] دیوان سید حمیری، صفحۀ ۱۶۸