سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

کوفہ کا مسموم ماحول اور مظلومیتِ امام (علیہ‌السلام)

 مسلم جصاص بیان کرتے ہیں: ابنِ زیاد نے مجھے کوفہ کے دار الامارہ کی مرمت کے لیے بلایا۔ میں دروازوں پر پلستر کر رہا تھا کہ اچانک کوفہ کے اطراف سے چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہوئیں۔ میں اپنے ساتھ موجود ایک خادم کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں کوفہ میں یہ کہرام دیکھ رہا ہوں؟
اس نے کہا: ابھی ایک خارجی کا سر لایا گیا ہے جس نے یزید کے خلاف خروج کیا تھا۔
میں نے پوچھا: وہ خارجی کون ہے؟
اس نے کہا: حسین بن علی (علیہ‌السلام)۔
مسلم کہتے ہیں: میں نے خادم کو جانے دیا، پھر غمِ حسین (علیہ‌السلام) میں اپنے چہرے پر اس شدت سے طمانچے مارے کہ مجھے ڈر ہوا کہیں میری آنکھیں ضائع نہ ہو جائیں۔
بحار الأنوار, علامه مجلسی, ج ۴۵, ص ۱۱۴

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے