میں تجھ سے پوچھ رہا ہوں کہ گِن کے بتا، حسین علیہالسلام کے خیمے کتنے ہیں؟
اُس نے پلٹ کے لکھا: "ہمارے گھوڑے مضبوط ہیں، پانی پیے ہوئے ہیں، چارہ ہم نے کھلایا ہوا ہے اور اپنی تلواروں کو زہر میں بجھایا ہوا ہے”۔
عمرِ سعد نے دیکھا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہو گیا ہے۔ اب شام کا وقت ہو گیا۔
اگلے دن پھر خط لکھتا ہے اور لکھتا ہے: "گِن کے بتا کے بتا کہ حسین علیہالسلام کے خیمے کتنے ہیں؟ ورنہ تجھے تیرے عہدے سے معزول کر دوں گا، اگر تو نے گِن کے نہ بتایا کہ حسین علیہالسلام کے خیمے کتنے ہیں”۔
جب عمرِ سعد کے پاس خط پہنچا، تو وہ پلٹ کے جواب لکھتا ہے: "کس کی ماں نے اتنا خالص دودھ پلایا ہے، جو عباس علیہالسلام کے ہوتے ہوئے (خیمے گننے کی جرات کر سکے)۔۔۔