دو محرم کو سرِ کرب و بلا / کاروانِ شہِ مظلوم رکا / اک قبیلہ بنی اسد نامی
ان سے مولا علیہ السلام نے یوں خطاب کیا / میں نے یہ کربلا خریدی ہے
کل یہاں پر لٹے گا گھر میرا / بے کفن لاشے سب پڑے ہوں گے
قبر کوئی نہیں بنائے گا / اے بنی اسد والوں / جب کوئی نہ آئے، تم ضرور آنا / ان مسافروں کی قبر تم بنانا