راوی: جویریہ بن مسہر عبدی
امیرالمومنین علیہالسلام کا اچانک رک جانا سفر کے دوران اچانک کاروان رک گیا۔ امیرالمؤمنین علیہالسلام نے کسی پیشگی حکم کے بغیر اپنے مرکب کی لگام کھینچ لی۔ آپ علیہالسلام نے اپنی مبارک نظریں افق پر ٹکا دیں اور سپاہیوں کے درمیان ایک گہرا سکوت چھا گیا۔ مٹی پر اندوہناک نگاہ پھر آپ علیہالسلام نے ایسے انداز سے دائیں اور بائیں دیکھا جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ گویا آپ اس سرزمین کو برسوں سے جانتے تھے۔
اس کے بعد آپ علیہالسلام نے اپنے دل کی گہرائیوں سے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور فرمایا: ”خدا کی قسم…“ ”خدا کی قسم! یہ ان کے گھوڑوں سے اترنے کا مقام ہے… اور یہی ان کی جائے شہادت ہوگی۔“
بے تابانہ سوال میں نے عرض کیا: ”یا امیرالمؤمنین! یہ کون سی جگہ ہے؟“
آپ علیہالسلام نے فرمایا: ”یہ کربلا ہے… وہ جگہ جہاں ایک گروہ کو قتل کیا جائے گا۔“
پھر آپ علیہالسلام نے مزید فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ پرخون دل کے ساتھ سفر کا تسلسل امام علیہالسلام نے اس کے بعد کوئی اور بات نہ کی۔ بس آپ علیہالسلام کے مبارک رخساروں پر آنسو جاری تھے کاروان آگے بڑھ گیا… لیکن گویا اسی لمحے سے پوری سپاہ کے چہروں پر غم کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔
ماخذ
الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، شیخ مفید، ج ۱، ص ۳۳۲