آپ جانتے ہیں نا مختلف جانوروں کو مختلف طریقوں سے ذبح کیا جاتا ہے؛ مچھلی کو پانی سے نکال کے باہر پھینکتے ہیں، وہ تڑپ تڑپ کے مر جاتی ہے تو حلال ہے، بکرے کے گلے کو ذبح کیا جاتا ہے اور اونٹ کو نہر کیا جاتا ہے۔
کسی نے پوچھا: "مولا علیہالسلام! کچھ لوگ کہتے ہیں آپ علیہالسلام کے بابا کا گلا پشتِ گردن سے کاٹا، کچھ کہتے ہیں گلے کے گودال میں نیزا مارا، کچھ کہتے ہیں سامنے سے گلا کاٹا اور کچھ کہتے ہیں پانی نہیں پلایا تھا، آپ علیہالسلام کے بابا تڑپ تڑپ کے مرے ہیں۔ مولا! خود بتائیے کیا صحیح ہے؟” مولا علیہالسلام تڑپنے لگے۔
پوچھا گیا: "مولا علیہالسلام! کیوں نہیں بتاتے؟”
مولا علیہالسلام نے کہا: "چاروں صحیح ہیں۔ پہلے پشتِ گردن سے گلا کٹا، پھر سامنے سے، اس سے پہلے نیزہ بھی مارا تھا اور پیاسے تڑپتے رہے میرے بابا۔” مچھلی بھی جب تڑپتی ہے نا، تو کئی لوگ دیکھ نہیں پاتے۔
وہاں کہیں حسین علیہالسلام تڑپ رہے تھے، کہیں علی اصغر علیہالسلام تڑپ رہے تھے اور کہیں بہن دیکھ دیکھ کے تڑپ رہی تھی۔