سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

خطاطی

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام میں اسلامی خطاطی کے شاہکاروں کے مجموعے کی رونمائی

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے علوی خطاطی مجموعہ کے عنوان سے اسلامی خطاطی کے عظیم اور منفرد فن پاروں کے ایک مجموعے کی رونمائی کی۔

 بین الاقوامی ہفتۂ غدیر کے موقع پر حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے خطاطی کے عظیم منصوبے علوی خطاطی مجموعہ کی رونمائی کی، جس میں 40 ممتاز عرب و اسلامی خطاطوں نے حصہ لیا اور امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی سیرت، فضائل اور حکمتوں کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا۔

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے شعبۂ فکری و ثقافتی امور نے علوی خطاطی مجموعہ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا، جو امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی سیرت، فضائل اور حکمتوں پر مشتمل خطاطی کے نادر فن پاروں کا ایک گراں قدر مجموعہ ہے۔ یہ منصوبہ پندرہویں بین الاقوامی ہفتۂ غدیر کے پروگراموں کے تحت پیش کیا گیا۔

اس حوالے سے حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے شعبۂ فکری و ثقافتی امور کے سربراہ کرار الحلو نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک بے مثال ثقافتی و فنی تجربہ ہے جو خطاطی کے اصیل فن اور اسلامی علمی ورثے کو یکجا کرتا ہے اور عربی خط کی اصالت کو محفوظ رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، اس کے ذریعے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے بلند مقام کو اسلامی میراث میں فنی انداز سے اجاگر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس منصوبے کی تیاری مہینوں پر محیط منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کے بعد مکمل ہوئی، جس میں انتظامی تقاضوں کی فراہمی، ماہر کمیٹیوں کی تشکیل، متون کے انتخاب و تدوین، اور فنی معیار جیسے کاغذ، روشنائی اور قلم کے انتخاب کے اصول شامل تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے تقریباً 40 ممتاز خطاطوں نے حصہ لیا، جو اس فن کے عالمی سطح پر معروف اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں، اور ہر ایک نے اپنے منفرد اسلوب کے ساتھ اس مجموعے میں حصہ ڈالا۔

کرار الحلو کے مطابق منتخب متون میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے وہ فضائل شامل ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں اور جن کی تصدیق شیعہ و سنی معتبر مصادر سے کی گئی ہے، جبکہ ایک حصہ نہج البلاغہ سے منتخب حکمتوں پر مشتمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں خطاطی کے اعلیٰ فنی معیار کو مدنظر رکھا گیا، جس میں حکمتوں کے لیے خط ثلث اور فضائل کے لیے خط نسخ استعمال کیا گیا، تاکہ کلاسیکی عربی خطاطی کی خوبصورتی اور نفاست کو اجاگر کیا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس مجموعے کی نمایاں خصوصیت 40 مختلف خطاطی مکاتب کو ایک ہی فنی مجموعے میں جمع کرنا ہے، جو اسلامی و عربی خطاطی کے مختلف اسالیب سے آشنائی کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔

پراجیکٹ کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے رکن خضیر العبودی نے کہا کہ اس منصوبے میں عراق اور بیرون ملک کے ممتاز استاد خطاطوں کے ساتھ تعاون کیا گیا، اور ایسے فنکاروں کا انتخاب کیا گیا جو اپنے تجربے اور خلاقیت کے لیے معروف ہیں، تاکہ یہ مجموعہ اپنے موضوعات کے شایانِ شان ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت تیار ہونے والے 40 فن پارے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے حکمتوں اور مناقب کو ایک ایسے فنی انداز میں پیش کرتے ہیں جو جمالیات، فنی دقت اور فکری پیغام کو یکجا کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ علوی خطاطی آثار منصوبہ ایک پیشرو ثقافتی تجربہ ہے جس کے ذریعے حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام اپنے گرانقدر ورثے کو جدید فنی اور تخلیقی انداز میں محفوظ اور متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے