سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

وَلِیُّ الله

بھئی! کائنات میں اکیلا ہے! هُوَ عَيْنُ اَللَّهِ اَلنَّاظِرَةُ وَ أُذُنُهُ اَلسَّامِعَةُ وَ وَجْهُهُ فِي اَلسَّمَاوَاتِ وَ اَلْأَرْضِ وَ لِسَانُهُ اَلنَّاطِقُ فِي خَلْقِهِ وَ يَدُهُ اَلْمَبْسُوطَةُ عَلَی‌ عِبَادِهِ بِالرَّحْمَةِ آنکھیں دیکھیں تو عین اللہ، چہرہ دیکھا تو وجہ اللہ، زبان دیکھی تو لسان اللہ اور ہاتھ دیکھے تو ید اللہ۔
تو اتنا کچھ تو علی علیہ‌السلام میں پہلے سے لگا ہوا ہے؛ وجہ اللہ، ید اللہ، عین اللہ، اذن اللہ، لسان اللہ۔ (سُلیم بن قیس الہلالی، کتاب سُلیم بن قیس، ج۲، ص۸۵۸)
ہم نے تو بس ایک ولی اللہ کہہ دیا، تو تمہیں موت آ گئی!

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے