سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

کربلا؛ غدیر بھلادینے کا نتیجہ

 ایک شخص نے علامہ امینی سے کہا: “شیعوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کربلا میں اس قدر عزاداری کرتے ہیں؟” علامہ امینی نے نہایت خوبصورت جواب دیا اور کہا: ہم نے واقعۂ غدیر پر شور و غوغا نہیں کیا اور تم نے اسے تحریف کر دیا اور کہا: “مَن كُنتُ مَولاهُ فَهذا عَلِيٌّ مَولاهُ” یعنی جس کا میں دوست ہوں، علی بھی اس کے دوست ہیں! کیا واقعی؟ کیا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں کو جمع کیا، طویل خطبہ دیا، اور اتنی بڑی تیاری صرف یہ کہنے کے لیے کی تھی کہ “جو میرا دوست ہے، علی بھی اس کا دوست ہے؟” اگر بات صرف یہی ہوتی… تو نہ اتنی تمہید کی ضرورت تھی، نہ اتنے عظیم اجتماع کی۔اسی تحریف کا انجام… کربلا کی صورت میں ظاہر ہوا۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے