سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

GCV-37

اعلان ولایت

 حضور سرور کائنات صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اپنی زندگی کا جو پہلا اور آخری حج انجام دیا۔ غدیر خم کے میدان میں اپنی زندگی کا طولانی ترین خطبہ ارشاد فرمایا۔

میں کچھ ہی دنوں کے بعد اس دنیا سے پردہ فرمانے والا ہوں۔ تو میرے بعد میری قوم کی قیادت کس کے ہاتھوں میں ہوگی؟

حضور صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ فرماتے ہیں کہ:

یقیناً میرا والی و وارث اللہ ہے اور میں مومنین کا والی و وارث ہوں۔

پھر اپنے دونوں ہاتھوں میں مولائے متقیان علیہ‌السلام کو بلند کیا اور بلند کر کے فرمایا:

جس جس کا میں والی و وارث ہوں، اس اس کے یہ علی ابن ابی طالب علیہ‌السلام والی و وارث ہیں۔

پھر اسی بات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ علی ابن ابی طالب علیہ‌السلام کے فضائل کو بیان کیا۔

اس کے بعد یہ حکم دیا کہ اب ہر ایک آئے اور علی ابن ابی طالب علیہ‌السلام کے ہاتھوں پر بیعت کرے۔

تاریخ نے ان افراد کے نام بھی رقم کیے ہیں کہ جنہوں نے آکر باقاعدہ علی ابن ابی طالب علیہ‌السلام کے ہاتھوں پر بیعت کی۔ ان میں سے ایک مشہور نام خلیفہ ثانی کا بھی ہے۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے