اس نشست میں حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام، حرم مقدس امام حسین علیہالسلام، حرم مقدس حضرت عباس علیہالسلام، حرم مقدس کاظمین اور حرم مقدس عسکریین کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس نشست کا مقصد آئندہ علمی و ثقافتی تقریبات کی منصوبہ بندی، ذمہ داریوں کی تقسیم اور ضروری انتظامات کی تیاری تھا۔ یہ تقریبات شیخ طوسی قدسسرہ کی نجف اشرف آمد کی ہزارویں سالگرہ کے منصوبے کے تحت منعقد کی جائیں گی۔
مشترکہ رابطہ کاری
حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے مرکزِ نظم کے ذمہ دار وسام اسکندر نے حرم کے خبر مرکز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پہلی رابطہ نشست حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی دعوت پر منعقد ہوئی۔ اس میں دیگر مقدس مزارات کے رابطہ کاروں نے شرکت کی۔ یہ نشست حوزۂ علمیہ نجف اشرف کے ہزار سالہ جشن کی تقریبات کے آغاز کے موقع پر منعقد کی گئی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ نشست میں مجوزہ تقریبات کا جائزہ لیا گیا اور ضروری منصوبہ بندی کی گئی۔ انتظامی و تجهیزاتی ضروریات پر بھی تبادلۂ خیال ہوا اور شریک مقدس مزارات کے درمیان ذمہ داریاں تقسیم کی گئیں۔ اس کا مقصد باہمی رابطہ کاری کو مضبوط بنانا اور تقریبات کے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات مکمل کرنا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شرکاء نے تقریبات کی ایک جامع فہرست تیار کرنے پر اتفاق کیا، جس میں ہر پروگرام کا شیڈول اور آغاز کی تاریخ درج ہوگی۔ اس کے علاوہ شرکت کی دعوتیں بھی تیار کی جائیں گی، تاکہ منصوبہ بندی میں ہم آہنگی بڑھے اور طے شدہ سرگرمیوں کی نگرانی آسان ہو۔
مستقبل کے لیے حکمتِ عملی
حرم مقدس امام حسین علیہالسلام کے شعبۂ امورِ فکری کے سربراہ شیخ علی القرعاوی نے اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اسے شیخ طوسی قدسسرہ کی نجف اشرف آمد کی ہزارویں سالگرہ منانے کے لیے ایک وسیع اقدام قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تقریب کے انعقاد کے لیے مستقبل پر نظر رکھنے والی حکمتِ عملی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ مقدس مزارات اور فکری و ثقافتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مشاورت کے نتیجے میں اس منصوبے کے لیے حکمتِ عملی پر مبنی پروگراموں اور خصوصی مطالعات کی تیاری کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ ان اقدامات کے تحت آئندہ نشستوں میں پروگراموں کا تعین اور شریک اداروں کے درمیان مشترکہ اہداف مرتب کیے جائیں گے۔
مختلف موضوعاتی محور
حرم مقدس حضرت عباس علیہالسلام کے اعلیٰ ادارۂ تراث کے مدیر ڈاکٹر سید عبدالحکیم الصافی نے بتایا کہ رابطہ کمیٹیوں نے حوزۂ علمیہ نجف اشرف کے ہزار سالہ جشن کے مختلف بنیادی موضوعات کا جائزہ لیا۔ ان میں علمی، ثقافتی، فکری، سماجی اور تاریخی ورثے سے متعلق پہلو شامل تھے۔ اس کے علاوہ معاشرے پر حوزۂ علمیہ کے اثرات اور دیگر علمی مراکز کے ساتھ اس کے علمی روابط بھی زیرِ بحث آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نشست میں ان موضوعات پر سرگرمیوں کے ابتدائی خدوخال طے کیے گئے اور ہر محور سے متعلق پروگراموں کی پیروی کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ آئندہ پروگراموں میں ثقافتی سرگرمیاں، علمی کانفرنسیں اور مختلف تقریبات شامل ہوں گی، جو حوزۂ علمیہ نجف اشرف کے تاریخی اور علمی مقام کو اجاگر کریں گی۔
نجف اشرف کا ممتاز مقام
سید عبدالحکیم الصافی نے مزید کہا کہ اس منصوبے کی پیش رفت اور معاونت میں حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کا مرکزی کردار ہے۔ اس کی وجہ نجف اشرف کا تاریخ اور دینی شعائر میں ممتاز مقام ہے۔ یہ شہر حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی میزبانی کے ساتھ علوم و معارفِ دینی کے فروغ میں حوزۂ علمیہ کی طویل تاریخ اور اہم مقام سے بھی وابستہ ہے۔
یہ رابطہ نشستیں مقدس مزارات اور علمی و ثقافتی اداروں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے لیے منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان کا مقصد حوزۂ علمیہ نجف اشرف کے ہزار سالہ جشن کا جامع پروگرام مرتب کرنا اور اس کے علمی مقام کو بہتر انداز میں متعارف کرانا ہے۔ اس کے ساتھ ایک ہزار سال سے زائد قدیم علمی ورثے کی تجدید اور احیا کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔













