ڈوبا جو علی کے جلووں میں اک عجب نظارہ دیکھا ہے ۔ حُبدار علی کے بیٹھے ہیں ہر لب پہ علی کا نعرہ ہے
مقداد ابوذر جھومتے ہیں سلمان قصیدے پڑھتا ہے ۔ سب جام وِلا کے پیتے ہیں اور ساقیِ کوثر ہے
ہو ایسا سخی دربار تو کہنا پڑتا ہے ۔ دل عشق میں ہو سرشار تو کہنا پڑتا ہے
حیدر حیدر علیہ السلام یا مولا علیہ السلام