جارج جرداق کہنے لگا: "نہج البلاغہ میرے کس کام کی؟ کہ جب سائنس ہی نہیں تھی تو اُسے (امیرالمومنین علیہالسلام) کیسے پتہ کہ ساری دنیا پانی سے بنی ہے؟ فَرَفَعَهُ فِي هَوَاءٍ مُنْفَتِقٍ وَ جَوٍّ مُنْفَهِقٍ فَسَوَّى مِنْهُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ (نہج البلاغہ، خطبہ۱، خلقتِ آسمان و زمین و انسان) تو وہ کہتا ہے کہ نیا نیا ایک چینل شروع ہوا تھا، ‘نیشنل جیوگرافیکل چینل’؛ میں وہ سُن رہا تھا تو ایک سائنسدان کہہ رہا تھا کہ اب ہم اِس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ یہ ساری کائنات جب بننا شروع ہوئی تو پانی سے بنی ہے۔” جب میں نے سنا تو میں نے کہا: "چودہ سو سال پہلے علی علیہ السلام فرما گئے۔” کہا: "میں سوچنے پہ مجبور ہوا کہ مجھے پڑھنا پڑے گا، کہ میں نے دوبارہ ساری نہج البلاغہ کو پڑھا۔” پھر اُس نے کہا: "میں نے سو سے زیادہ مرتبہ نہج البلاغہ پڑھی ہے اور جب پڑھتا ہوں نئے مطالب نکل آتے ہیں۔” جارج جرداق کہتا ہے: "میں اِس نتیجے پہ پہنچا کہ جو سائنس نے بتایا ہے کہ دنیا کیسے بنی، اور علی علیہ السلام کے خطبے پڑھو تو لگتا یہ ہے یا علی علیہ السلام نے دنیا بنائی ہے یا بنتے ہوئے خود دیکھی ہے۔”