سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

GH-Tareekh-17

غدیر اور بیمار آنکھیں

میں امامِ جعفرِ صادق علیہ‌السلام کو مدینہ سے مکہ لے جا رہا تھا ۔ جب ہم مسجدِ غدیر پہنچے، تو حضرت نے بائیں جانب دیکھا اور فرمایا: ”یہ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کے قدموں کی جگہ ہے، وہی مقام جہاں آپ نے فرمایا تھا: جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں“۔

پھر حضرت نے دائیں جانب دیکھا اور فرمایا: ”یہاں دو منافقوں کے خیمے تھے، جن کے ہمراہ ابو حذیفہ کا غلام سالم اور ابو عبیدہ جراح بھی تھا“ ۔

جس دن پیغمبرِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا ہاتھ بلند کیا، تو ان منافقوں میں سے ایک چلایا: ”اس کی آنکھوں کو دیکھو! کیسے دیوانہ وار گردش کر رہی ہیں!“

اسی لمحے جبرئیل علیہ‌السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے: ”اور کافر جب یہ قرآن سنتے ہیں تو قریب ہے کہ تم کو اپنی آنکھوں سے پھسلا دیں (اور نقصان پہنچائیں) اور کہتے ہیں کہ یہ تو یقیناً دیوانہ ہے! حالانکہ یہ تمام جہانوں کے لیے نصیحت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔“

حقیقت کو ان بیمار آنکھوں نے دیوانگی کا نام دیا۔

الکافی، شیخ کلینی، ج۴، ص۵۶۶

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے