حضرت امام محمد باقر علیہالسلام نے اس آیہ مبارکہ «أَ فَمَنْ یَعْلَمُ أَنَّما أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ الْحَقُّ» کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہالسلام ہیں ؛ اور آیت میں «الْأَعْمَی» (اندھا) سے مراد ان کا دشمن ہے۔
نیز «أُولُو الْأَلْبَابِ»(صاحبان خرد) علی علیہالسلام کے وہ شیعہ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے یوں توصیف کیا ہے: «الَّذِینَ یُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ لا یَنْقُضُونَ الْمِیثاقَ»۔ اور یہ وہی میثاق ہے جو عالمِ ذر اور روزِ غدیر ولایتِ علی علیہالسلام کے متعلق ان سے لیا گیا تھا۔
کیا اس شخص کے درمیان جس نے "حق” کو اپنے تمام وجود سے ادراک کر لیا ہے اور اس کے درمیان جو انکار کی تاریکیوں میں قید ہے، کوئی برابری ہے؟ امامِ خرد، حضرت امام محمد باقر علیہالسلام کلامِ وحی کے ایک عظیم راز سے پردہ اٹھاتے ہیں۔
خداوندِ متعال فرماتا ہے: «أَفَمَن یَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَیْکَ مِن رَّبِّکَ الْحَقُّ…» حضرت امام باقر علیہالسلام نے اس آیت کی تبیین میں فرمایا: یہ حقیقتِ محض، امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہماالسلام کا نورانی وجود ہے ۔
اس الہیٰ ترازو میں «الْأَعْمَی» اور اندها وہ ہے جس نے اپنی آنکھیں ولایت کے سورج پر بند کر رکھی ہیں ۔
حقیقی خردمند کون ہیں؟
قرآن میں «أُولُو الْأَلْبَابِ» کا ذکر آیا ہے۔ امام فرماتے ہیں کہ یہ علی علیہالسلام کے وہ سچے پیروکار ہیں جن کے وصف میں خدا نے فرمایا: «الَّذِینَ یُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ لا یَنْقُضُونَ الْمِیثاقَ»
یہ ولایتِ علی کا وہ میثاق ہے جو ہماری روحوں سے دو بار لیا گیا : پہلی بار عالمِ ذر میں جب ہماری ارواح نے خالق کے سامنے گواہی دی ، اور دوسری بار غدیر میں جب حقیقت کا ہاتھ، رسالت کے ہاتھ میں بلند ہوا۔
عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ علیه السلام قَالَ: قَوْلُهُ عَزَّ وَ جَلَّ «أَ فَمَنْ یَعْلَمُ أَنَّما أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ الْحَقُّ» هُوَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَ الْأَعْمَی هُنَا هُوَ عَدُوُّهُ وَ أُولُو الْأَلْبَابِ شِیعَتُهُ الْمَوْصُوفُونَ بِقَوْلِهِ تَعَالَی «الَّذِینَ یُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ لا یَنْقُضُونَ الْمِیثاقَ» الْمَأْخُوذَ عَلَیْهِمْ فِی الذَّرِّ بِوَلَایَتِهِ وَ یَوْمِ الْغَدِیرِ۔
بحار الأنوار، علامہ مجلسی، ج ۲۴ ص ۴۰۱