امامِ جعفرِ صادق علیہالسلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر کوئی ایسا شخص جو امیرالمؤمنین علی علیہالسلام سے محبت نہیں رکھتا، دریائے فرات کے کنارے کھڑا ہو جب کہ پانی کناروں تک لبریز ہو اور اپنے ہاتھ سے پانی پیے؛ حتیٰ کہ پیتے کے وقت “بسم اللہ” کہے اور اختتام پر “الحمدللہ” بھی کہے، تب بھی اس کا یہ عمل اس شخص کے مانند ہے جس نے مردار، خون یا سور کا گوشت کھایا ہو۔
اس کلام کے چند بنیادی نکات قبولیت کی شرط امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی ولایت وہ میزان ہے جس پر اعمال کو پرکھا جاتا ہے اور یہی تمام اعمال کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔
ظاہر اور باطن کا فرق اگر عبادت اور ذکر ظاہری صورت میں موجود بھی ہوں، لیکن ولایت کے رشتے سے خالی ہوں، تو وہ اپنی حقیقی قدر و قیمت سے محروم رہتے ہیں۔
عمل کا باطنی اثر جو عمل ولایت کے بغیر انجام پائے، وہ عالمِ ملکوت میں اپنی حقیقت کے اعتبار سے ناپاک اور حرام عمل سا اثر رکھتا ہے۔
الکافی، شیخ کلینی، ج ۸، ص ۱۶۱