سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

GH-Tareekh-3

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام؛ مشابہتِ عیسیٰ بن مریم علیہ‌السلام

 رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا کلام ہم جیسے لوگوں کے کلام کی طرح نہیں ہے بلکہ لسانِ نبی صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر وحیِ الہی کا پہرا ہے، کہ یہ کچھ بولتے ہی نہیں سوائے اس کے جو اُن پر وحی نازل ہوتی ہے. اس کا مطلب آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی احادیث میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے فضائل، پیغمبر صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی آپ سے محبت کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ وحئِ الہی ہے جو لسانِ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے جاری ہے. آپ کی احادیث میں فضائلِ امیرالمومنین علیہ السلام کو مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

انہی روایات میں ایک عظیم روایت وہ ہے جس میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کو حضرتِ عیسیٰ بن مریم علیہ‌السلام سے مشابہ قرار دیا گیا۔ یہ روایت نہ صرف مقامِ ولایت کو واضح کرتی ہے بلکہ دشمنانِ حق کے ردِّعمل اور آیاتِ قرآن کے نزول کو بھی بیان کرتی ہے۔ (الکافي، ج ۸، ص ۵۷)

ایک دن رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ تشریف فرما تھے کہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام مجلس میں حاضر ہوئے۔

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فوراً فرمایا: “تم عیسیٰ بن مریم علیہ‌السلام سے مشابہت رکھتے ہو۔”

پھر ارشاد فرمایا: “اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میری امت تمھارے بارے میں وہی باتیں کہنے لگے گی جو نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم علیہ‌السلام کے بارے میں کہیں، تو میں تمھارے ایسے فضائل بیان کرتا کہ لوگ تمھارے قدموں کی خاک بطورِ تبرک اٹھاتے۔”

یہ کلام سن کر دو اعرابیوں، مغیرہ بن شعبہ اور قریش کے چند افراد کو سخت غصہ آیا اور وہ کہنے لگے: “محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو سکون نہ آیا یہاں تک کہ اپنے چچا زاد بھائی کو مسیح سے تشبیہ دے دی!”

اس موقعے پر سورۂ زخرف کی یہ آیات نازل ہوئیں: وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ
اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی گئی تو آپ کی قوم چیخنے لگی۔۔۔ وہ تو بس ایک بندہ تھا جس پر ہم نے فضل کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک نمونہ بنا دیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو تمھارے بدلے زمین میں فرشتے پیدا کر دیتے جو تمھارے جانشین ہوتے۔

اس کے بعد حارث بن عمرو فہری نے بھی اعتراض کیا اور کہا: "کہ اگر یہ حق ہے کہ بنی ہاشم ایک کے بعد ایک حاکم ہوں گے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب لے آ۔”

اس پر آیت نازل ہوئی: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (انفال/۳۳)
اور اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا جب تک آپ ان کے درمیان موجود ہیں، اور نہ ہی اللہ عذاب دینے والا ہے جب تک وہ استغفار کرتے ہیں۔

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اسے توبہ کی دعوت دی، مگر وہ انکار کر کے مدینہ سے نکل گیا۔

روایت بیان کرتی ہے کہ ابھی شہر کے باہر ہی پہنچا تھا کہ آسمان سے ایک پتھر نازل ہوا اور اس کا سر پھٹ گیا۔

پھر یہ آیت نازل ہوئی: «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ» یعنی ایک مانگنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واقع ہو کر رہے گا۔ (الکافي، ج ۸، ص ۵۷)

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے