سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

GH-Tareekh-4

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام؛ حاملِ لوائے حمد

 قیامت کے ہولناک مناظر میں سے کچھ ایسے حسین مناظر بھی ہیں جس کے متعلق روایات میں ایسے مقامات بیان ہوئے ہیں جہاں مخصوص ہستیوں کے عظیم مراتب آشکار ہوتے ہیں۔

انہی مناظر میں "لوائے حمد" کا ذکر بھی آتا ہے؛ وہ پرچم جو روزِ محشر عزت، اور قربِ الٰہی کی علامت ہوگا، یعنی سب شیعیانِ امیرالمومنین علیہ‌السلام اُس وقت اپنے اوپر فخر کریں گے کہ کس امام کے پیچھے آرہے ہیں.

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے ایک موقعے پر اسی لوائے حمد اور امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے مقام کو بیان فرمایا۔ (تفسير فرات الكوفي، ج۱، ص۵۰۶)

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے جمعے کے دن نمازِ صبح کے بعد لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا: "قیامت کے دن میں اس حال میں آؤں گا کہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام میرے سامنے ہوں گے اور لوائے حمد ان کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس پرچم کے دو حصے ہیں: ایک حصہ باریک ریشم سے اور ایک حصہ موٹے ریشم سے۔”

اسی دوران نجد کا رہنے والا ایک اعرابی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: "آپ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ ان کے بارے میں اختلاف بہت بڑھ گیا ہے۔”

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا: "امیرالمؤمنین علیہ‌السلام میرے لیے ایسے ہیں جیسے میرے بدن کے لیے میرا سر، اور جیسے میری قمیص کے لیے اس کے بٹن۔”

اعرابی نے غصے سے کہا:” اے محمد! میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام سے زیادہ طاقتور ہوں۔ کیا وہ حمد کا پرچم اٹھا سکیں گے؟”

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا: "آہستہ! اللہ تعالیٰ نے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کو یوسف علیہ‌السلام کا حسن، یحییٰ علیہ‌السلام کا زہد، ایوب علیہ‌السلام کا صبر، آدم علیہ‌السلام کی قامت اور جبرئیل علیہ‌السلام کی طاقت عطا فرمائی ہے۔”

پھر فرمایا کہ تمام مخلوقات اس پرچم کے نیچے جمع ہوں گی، ائمہ اور مؤذن اذان اور تلاوتِ قرآن کے ساتھ ان کے گرد ہوں گے، اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے اجساد قبروں میں بوسیدہ نہیں ہوتے۔

اعرابی نے دوبارہ غصے میں کہا: “اے اللہ! اگر محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی یہ بات حق ہے تو مجھ پر پتھر نازل کر۔”

اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ» یعنی ایک مانگنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واقع ہونے والا ہے۔ (تفسير فرات الكوفي، ج۱، ص ۵۰۶)

دشمنانِ ولایت نے ہر دور میں اعتراض اور انکار کا راستہ اختیار کیا، لیکن آیاتِ الٰہی اور فرامینِ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے حق کو ہمیشہ آشکار رکھا۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے