دعوتِ عمومی رسولِ خدا صلیاللهعلیہوآلہ نے فوراً حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دیا جائے: «أَنْ لا يَبْقَى غَداً أَحَدٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَى غَدِيرِ خُمّ» کل کوئی بھی باقی نہ رہے، مگر یہ کہ غدیرِ خم کی طرف روانہ ہو۔
حج کے طویل اور مشقت بھرے اعمال کے بعد بھی جب یہ اعلان ہوا تو قافلوں میں غیر معمولی حرکت پیدا ہو گئی۔ ہزاروں حاجی اس مقام کی طرف روانہ ہونے لگے جسے غدیرِ خم کہا جاتا تھا۔ یہ جگہ جُحفہ کے قریب واقع تھی؛ وہ اہم مقام جہاں سے مدینہ، مصر، عراق اور شام کی طرف جانے والے راستے ایک دوسرے سے جدا ہوتے تھے۔ اسی لیے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے تمام قافلے ابھی تک ایک ہی مقام پر جمع تھے۔
غدیرِ خم ہی کیوں؟
اس مقام کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا بلکہ نہایت حکیمانہ اور الٰہی تدبیر کا نتیجہ تھا۔ یہ آخری مشترک مقام تھا جہاں تمام حاجی اپنے اپنے راستوں میں بٹنے سے پہلے جمع تھے۔ یہاں پانی کے چشمے اور قدیم درخت موجود تھے، جو اس عظیم اجتماع کے قیام کے لیے موزوں تھے۔ اور یہی وہ جگہ تھی جو بعد میں اس عظیم واقعے کی یاد میں تاریخ میں محفوظ ہو گئی، یہاں تک کہ اسی مقام پر بعد میں «مسجد الغدیر» تعمیر کی گئی۔
تکمیلِ رسالت لوگ اس غیر معمولی توقف اور عجلت سے حیران تھے، مگر حقیقت یہ تھی کہ تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ قریب آ چکا تھا۔ جب سب جمع ہو گئے تو رسولِ خدا صلیاللهعلیہوآلہ نے اس عظیم اجتماع میں ایک ایسا اعلان فرمایا جس نے اسلام کی تاریخ کو روشن کر دیا۔
اسی موقعے پر آیت نازل ہوئی: «اليوم أكملتُ لكم دينكم…»آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا۔ اسی مقام پر، اللہ کے حکم سے، امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کو مؤمنوں کے «مولا» اور رسول کے بعد امت کے رہنما کے طور پر متعارف کرایا گیا۔
یہ اعلان محض ایک خطبہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی الٰہی امانت کا آغاز تھا جو قیامت تک امت کے لیے ہدایت کا چراغ بننے والی تھی؛ وصایت اور ولایت کی وہ عظیم ذمہ داری جو دین کے تسلسل اور حقیقتِ اسلام کی حفاظت کی ضامن قرار دی گئی۔
شواہد التنزيل، ج ۱، ص ۲۵۶