امام جعفر صادق علیہالسلام کی اس روایت میں جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے غدیر کی حقیقت، ولایتِ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی عظمت اور اس کا انکار کرنے والوں کے رویّے کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے (تأويل الآيات الظاهرة، ج ۱، ص ۶۸۸)
راوی بیان کرتا ہے کہ وہ امام جعفر صادق علیہالسلام کو مدینہ سے مکہ لے جا رہا تھا اور وہ ایک عام سا شتربان تھا، کوئی بڑا عالم. نہیں تھا۔ وہ بیان کرتا ہے جب حضرت علیہالسلام میدانِ غدیر میں پہنچے تو امام علیہالسلام نے اس سرزمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: “یہ حضرتِ محمد صلیاللهعلیہوآلہ کے قدموں کے نشان ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں رسولِ خدا صلیاللهعلیہوآلہ نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا تھا: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ»” جس کا میں مولا ہوں، علی علیہالسلام اُس کے مولا ہیں۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا کہ اس موقعے پر خیمے کے دائیں جانب قریش کے چار افراد موجود تھے۔ جب انہوں نے اعلانِ ولایت کا منظر دیکھا تو کہنے لگے: “ان کی آنکھوں کو دیکھو، یہ تو کسی دیوانے کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔” اسی موقع پر سورۂ قلم کی آیات نازل ہوئیں: «وَإِنْ يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ… وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ» یعنی کافر اپنی نگاہوں سے گرانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے، حالانکہ یہ تمام جہانوں کے لیے ذکر ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: «وَ الذِّكْرُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» یعنی یہاں “ذکر” سے مراد امیرالمؤمنین علیہالسلام ہیں۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کا شکر ہے کہ میں نے یہ حقیقت آپ سے سن لی۔
امام علیہالسلام نے فرمایا کہ اگر تم شتربان نہ ہوتے تو میں یہ بات تمہیں نہ بتاتا، کیونکہ جب تم اسے دوسروں کو بتاؤ گے تو وہ تمہاری بات پر یقین نہیں کریں گے۔
یہ کلام امام جعفر صادق علیہالسلام کی مظلومیت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ آپ علیہالسلام کی باتوں کو قبول کرنے والے بہت کم تھے۔ (تأويل الآيات الظاهرة، ج ۱، ص ۶۸۸)