جابر بن عبداللہ انصاری کی یہ روایت بھی انہی اسرارِ ولایت میں سے ایک عظیم راز کو آشکار کرتی ہے۔ (تفسير فرات الكوفي، ج ۱، ص ۵۰۹)
جابر کہتے ہیں کہ کئی دن گزر گئے تھے اور انہیں امیرالمؤمنین علیہالسلام کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔ دل میں شوق و اضطراب پیدا ہوا تو وہ امِ سلمہ کے گھر حاضر ہوئے تاکہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کے بارے میں دریافت کریں۔
امِ سلمہ نے فرمایا: “علی علیہالسلام تین دن سے آسمانوں کے سفر پر ہیں۔”
جابر نے حیرت سے پوچھا: “کون سے آسمان؟”
امِ سلمہ نے دروازہ بند کیا اور فرمایا: “مسجد جاؤ، تم خود انہیں دیکھ لوگے۔”
جابر مسجد پہنچے تو دیکھا کہ ایک نوری وجود حالتِ سجدہ میں ہے اور اس کے سر پر نور کا ایک بادل سایہ کیے ہوئے ہے، لیکن امیرالمؤمنین علیہالسلام دکھائی نہ دیتے تھے۔ جابر اسی حیرت میں کھڑے رہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ بادل نیچے آیا اور پھٹ گیا امیرالمؤمنین علیہالسلام اس بادل کے درمیان سے ظاہر ہوئے۔ آپ علیہالسلام کے دستِ مبارک میں تلوار تھی جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ وہ نوری وجود اٹھا، آپ علیہالسلام کا بوسہ لیا اور عرض کیا: “اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو دشمنوں پر فتح عطا فرمائی۔”
جابر فوراً آگے بڑھے اور عرض کیا: “اے امیرالمؤمنین! آپ ان تین دنوں میں کہاں تھے؟”
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا: “کیا تم نہیں جانتے کہ میری ولایت تمام آسمان والوں اور جو کچھ ان میں ہے، اور تمام زمین والوں اور جو کچھ اس میں ہے، پر پیش کی گئی؟” پھر فرمایا کہ جنات کے ایک گروہ نے اس ولایت کو قبول کرنے سے انکار کیا، تو رسولِ خدا صلیاللهعلیہوآلہ نے مجھ کو اسی تلوار کے ساتھ ان کی طرف بھیجا۔ ایک گروہ ایمان لے آیا، ایک گروہ ہوا میں اڑ کر چھپ گیا اور ایک گروہ نے انکار کیا، پھر امیرالمؤمنین علیہالسلام نے ان منکرین سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گئے۔ (تفسير فرات الكوفي، ج ۱، ص ۵۰۹)