اگر لغت دانوں کو کوئی شرم ہوتی تو حارث ہی سے سبق لے لیتے۔ کہ مولا علیہالسلام کے معنی صرف سردار کے ہوتے ہیں۔
توجہ ہے نا عزیزان محترم؟ ورنہ یہ پوچھنے کی ضرورت کیا تھی کہ اپنی طرف سے بنایا ہے یا خدا کی طرف سے بنایا ہے؟
پھر جب اُس نے یقین نہیں کیا تھا، تو اُس نے عذاب طلب کیا تھا۔ جس کی آیت قرآن میں موجود ہے (انفال: ۳۲)
پیغمبر صلیاللہعلیہوآلہ نے کہا:
میں نے علی علیہالسلام کو مولا علیہالسلام اپنی طرف سے نہیں بنایا۔ بلکہ خدا کے حکم سے بنایا ہے۔
تو یہ کہتا ہوا میدان سے حارث بن نعمان فہری چلا:
اے اللہ! اگر محمد صلیاللہعلیہوآلہ سچے ہیں، تو آسمان سے مجھ پر عذاب نازل کر۔
قرآن نے اُس کی دعا کو ریکارڈ کیا: اور جب ایک سائل نے اپنے لیے خود عذاب طلب کیا(معارج: ۱) ؛
ادھر اس کی زبان سے عذاب نکلا، ادھر آسمان سے پتھر آیا جو دماغ میں لگا اور جسم کو چیرتا ہوا نکل گیا: پہلا منکر ولایت موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
مولانا عرفان حیدر صاحب قبلہ
تفسير فرات کوفی، ج۱، ص۵۰۵ / جامع الأخبار ج۱، ص۱۰ / الطرائف، ج۱، ص۳۰۶