سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Khutba-12

صاحبانِ عقل، وہی ہیں جو غدیر کے وفادار ہیں

امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام حق اور باطل کا پیمانہ ہیں۔ امام محمدِ باقر علیہ‌السلام سورہ رعد کی آیت ۱۹ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: قَوْلُهُ عَزَّ وَ جَلَّ: أَ فَمَنْ يَعْلَمُ أَنَّمٰا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ اَلْحَقُّ – عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَ اَلْأَعْمَی‌ هُنَا هُوَ عَدُوُّهُ وَ أُولُو اَلْأَلْبَابِ شِيعَتُهُ اَلْمَوْصُوفُونَ بِقَوْلِهِ تَعَالَی‌ – اَلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اَللّٰهِ وَ لاٰ يَنْقُضُونَ اَلْمِيثٰاقَ اَلْمَأْخُوذُ عَلَيْهِمْ فِي اَلدِّينِ بِوَلاَيَتِهِ يَوْمَ اَلْغَدِیرِ ۔

امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام حق اور باطل کا پیمانہ ہیں۔ امام محمدِ باقر علیہ‌السلام سورہ رعد کی آیت ۱۹ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

(أَفَمَنْ يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ الْحَقُّ کَمَنْ هُوَ أَعْمَی…)

ترجمہ: "بھلا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے و ہ حق ہے، کیا اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہے؟”

امام علیہ‌السلام کے کلام میں آیت کے باطنی مفہوم کی وضاحت:

آپ علیہ‌السلام نے اس کلامِ الہیٰ کی شرح میں اس کے حقیقی مصادیق کا تعارف اس طرح فرمایا:

۱. حقیقتِ حق: اس آیت میں حق سے مراد امیرالمؤمنین علی‌ بن‌ ابی‌طالب علیہم‌السلام کی ولایت ہے۔
۲. حقیقی اندھا: وہ شخص ہے جو ولایت کے جمال کا سورج نہیں دیکھتا اور آپ علیہ‌السلام سے دشمنی کرتا ہے۔
۳. صاحبانِ عقل (اولو الالباب): صرف مخلص شیعہ ہی ہیں جو حقیقی فکر و شعور کے مالک ہیں۔

وہ میثاق جو کبھی نہیں ٹوٹا:
اللہ تعالیٰ ان صاحبانِ عقل کی توصیف میں فرماتا ہے:
وہ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور میثاق کو نہیں توڑتے۔ مگر یہ کون سا عہد ہے؟

امام محمد باقر علیہ‌السلام فرماتے ہیں:
اس سے مراد وہی عہد و میثاق ہے جو عالمِ ذر اور روزِ غدیر میں حضرت علی علیہ‌السلام کی ولایت کے بارے میں ان سے لیا گیا تھا اور شیعہ کبھی اس عہد کو نہیں توڑتے۔

حوالہ‌جات
تأویل الآیات الظاهرة، سید شرف الدین استرآبادی، ص ۲۳۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے