سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Ghadir-8

اثباتِ امامتِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام سنت اور احادیث میں

پیغمبرِ اکرم صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  سے بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں انھوں  نے صراحت کے ساتھ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام  کی امامت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کی متعدد احادیث معتبر اور صحیح منابع میں نقل ہوئی ہیں جن میں خاتم المرسلین صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  نے اپنی شہادت کے بعد امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کی امامت کو صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ یہاں اہم اور نمایاں احادیث ذکر کی جارہی ہیں۔

حدیثِ نور

پیغمبرِ اکرم صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  حدیثِ نور میں فرماتے ہیں: میں اور علی بن ابی طالب، آدم کی خلقت سے چودہ ہزار سال پہلے خدا کے حضور ایک نور تھے۔ جب خدا نے  آدم کو پیدا کیا تو اس نور کو دو حصوں میں تقسیم کیا: ایک حصہ میں اور ایک حصہ علی علیہ‌السلام ۔
اور یہ بھی فرمایا کہ جب خدا نے آدم کو پیدا کیا تو اس نور کو ان کی پشت میں قرار دیا۔ یہ نور ایک ہی رہا یہاں تک کہ عبدالمطلب کی پشت میں دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ نبوت میرے حصے میں آئی اور خلافت علی کے حصے میں۔
ایک اور روایت میں ہے :پھر خدا نے اس نور کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصہ عبداللہ کے صلب میں اور دوسرا حصہ ابوطالب کے صلب میں رکھا۔ اسی طرح مجھے نبی بنایا اور علی کو میرا وصی قرار دیا۔[۱]

پیغمبر کے ساتھ بہشت میں ہم نشین ہونے کی حدیث

جب آیت (وَ أَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ) [۲] نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  نے اپنے خاندان کے تیس افراد کو تین مرتبہ جمع کیا۔ انھوں  نے کھایا پیا، پھر آپ نے فرمایا: کون ہے جو میری جگہ دین اور میرے وعدوں کی ضمانت دے، میرا جانشین ہو اور جنت میں میرا ہم نشین ہو؟
امیرالمؤمنین علیہ‌السلام  نے فرمایا: میں ، آنحضرت نے فرمایا: آپ۔
ثعلبی اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ تینوں مرتبہ سب نے خاموشی اختیار کی اور صرف امیرالمؤمنین علیہ‌السلام  نے جواب دیا۔[۳]

حدیثِ جانشینی

سلمان سے روایت ہے کہ میں نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  سے پوچھا: آپ کا جانشین کون ہے؟آپ نے فرمایا: اے سلمان! موسیٰ کا وصی کون تھا؟میں نے کہا: یوشع بن نون،پھر رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  نے فرمایا: میرے جانشین، میرے وارث، میری ذمہ داری ادا کرنے والے اور میرے وعدے پورے کرنے والے، علی بن ابی طالب علیہ‌السلام  ہیں۔[۴]

حدیث ہر نبی کا جانشین اور وارث ہوتا ہے

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  نے فرمایا کہ ہر نبی کا ایک جانشین اور وارث ہوتا ہے اور بے شک میرے جانشین اور میرے وارث علی بن ابی طالب علیہ‌السلام  ہیں۔[۵]

حدیثِ منزلت

متعدد روایات میں آیا ہے کہ جب رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  مدینہ سے تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو آپ نے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام  کو مدینہ میں اور اپنے خاندان کے درمیان اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
پھر امیرالمؤمنین علیہ‌السلام  کی طرف رخ کیا اور فرمایا: کیا تم راضی  نہیں ہوگے کہ اگر میں کہوں کہ تمھاری حیثیت میرے سامنے وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ کے مقابلے میں تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا؟۔[۶]

حدیثِ اخوت

روایات میں ہے کہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  نے لوگوں کے درمیان عقدِ اخوت قائم کیا لیکن علی علیہ‌السلام  باقی رہ گئے اور ان کے لیے کوئی بھائی نہ چنا گیا۔
آپ علیہ‌السلام  نے عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا مگر مجھے چھوڑ دیا؟۔
رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  نے فرمایا: میں نے تمھیں  اپنے لیے چھوڑا ہے۔ تم میرے بھائی ہو اور میں تمھارا بھائی ہوں۔ اگر کوئی تمھیں  نام لے کر بلائے تو کہو!میں خدا کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں۔ آپ کے بعد کوئی بھی سوائے چھوٹے دعویدار سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا اور قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، میں نے تمھیں  اپنے لیے چنا ہے، اور تمھاری منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ کے نزدیک تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور تم میرے بھائی اور میرے جانشین ہو۔[۷]
حدیث”  علی منی و انا من علی "
متعدد طریقوں سے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ سے روایت ہے کہ انھوں  نے فرمایا:علی مجھ سے ہیں اور میں ان کا سرپرست ہوں، اور وہ میرے بعد تمام مومنین کے سرپرست ہیں۔ اور جو کام میری ذمہ داری ہے یا جو امر میرے ذمے ہے اسے میرے یا علی کے علاوہ کوئی  اور ادا نہیں کر سکتا۔[۸]

بارہ جانشینوں والی حدیث

جابر اور ابن عینیہ نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  نے فرمایا: جب تک میرے بعد قریش میں سے میرے  بارہ جانشین لوگوں پر ولایت رکھتے رہیں گے، لوگوں کے امور قائم رہیں گے۔
یہ حدیث ایک دوسری روایت میں رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ  سے اس طرح نقل ہوئی ہے:بے شک دینِ اسلام بارہ جانشینوں تک ہمیشہ عزت و سربلندی کے ساتھ قائم رہے گا، اور ان سب کا تعلق قریش سے ہوگا۔[۹]
صحیح مسلم میں بھی اسی طرح آیا ہے: اسلام ہمیشہ قائم و برقرار رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے، اور تم پر  میرےبارہ جانشین حکومت کریں جن سب کا تعلق قریش سے ہوگا۔[۱۰]

مآخذ
[۱] بحارالانوار، ج۳۵، ص۲۴
[۲] سورۂ شعراء، آیت۲۱۴
[۳] نہج الحق، ص۲۱۳
[۴] الطرائف، ص۲۲
[۵] بحارالانوار، ج۳۸، ص۱۴۸
[۶] نہج الحق، ص۲۱۶
[۷] نہج الحق، ص۲۱۸
[۸] نہج الحق، ص۲۱۸
[۹] نہج الحق، ص۲۳۰
[۱۰] صحیح مسلم، ج۶، ص۴

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے