روزہ مولائے متقیان کی نگاہ میں
جسم کا روزہ، وقت اور کھانے پینے کو کنٹرول کرنے تک محدود ہے اور روح کے روزے تک پہنچنے کے لیے مقدمے کی حیثیت رکھتا ہے۔
جسم کا روزہ آسان ہے اور ہر کوئی اسے تھوڑے سے ارادے کے ذریعے مکمل کرسکتا ہے۔ لیکن دل اور روح کے روزے میں انسان کے سارے اعضا و جوارح روزے سے ہوتے ہیں۔
البتہ روزے کا مقصد جو کہ اسلام کے اہم احکام میں سے ہے، تقوا اور دل کی پاکیزگی کو پروان چڑھانا ہے۔
اخلاص اور ارادے کو مضبوط کرنے کا امتحان
روزے کے فلسفے یعنی تقوا تک پہنچے کی شرط اخلاص ہے۔ اگر کوئی شخص ماہِ رمضان کی عبادت میں اخلاص رکھتا ہو تو حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے۔
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا:
اللہ نے روزہ واجب کیا تاکہ اس کے ذریعے اپنے بندوں کے اخلاص کو آزمایا جاسکے۔[1]
البتہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کے نزدیک روزے کے واجب ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ایمان اور ارادے کو مضبوط کرنا بھی ہے اور نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
بےشک ماہِ رمضان کا روزہ عذابِ الہٰی کے سامنے ایک ڈھال ہے۔[2]
عبادات میں پوشیدہ حکمتیں
امیرالمؤمنین علیہالسلام روزہ اور نماز جیسی عبادتوں کی حکمتوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
اللہ نے اپنے مومن بندوں کو نماز، زکات اور واجب روزوں کے ذریعے اپنی پناہ میں محفوظ رکھا ہوا ہے تاکہ ان کے بدن پُر سکون ہو جائیں، ان کی نگاہیں خشوع سے سرشار ہوں، ان کی روح کو آرام نصیب ہو اور دل متواضع ہوجائیں اور غرور ان کے وجود سے زائل ہوجائے کیوں کہ ان عبادات میں کچھ حکمتیں چھپی ہوئی ہیں جیسے کہ پروردگار کے سامنے باعزت چہروں کی خاکساری، شریف جسموں کا خاک پر سجدہ اور تواضع اور نفس کا بھوک اور خالی پیٹ کے ذریعے رام ہوجانا۔[3]
جسمانی فوائد
اسلام میں روزے کے رازوں میں سے ایک راز، جسمانی سلامتی کا حصول ہے۔ مولائے متقیان روزے کے روحانی فوائد کے علاوہ اس کے جسمانی فوائد کے بارے میں فرماتے ہیں:
سلامتی کے دو اصلی عوامل میں سے ایک روزہ ہے۔[4]
امیرالمؤمنین علیہالسلام امامِ حسن علیہالسلام کو کی گئی اپنی وصیت میں روزے کی حکمت کے بارے میں فرماتے ہیں: روزہ رکھو، کیوں کہ روزہ، بدن کی زکات اور روزہ داروں کے لیے ایک محافظ سپر کی حیثیت رکھتا ہے۔[5]
روزے کا اجرو ثواب
روزہ داری کا اجر مولائے متقیان کے فرمان کے مطابق پہلے حکمت، پھر معرفت اور آخر میں یقین تک پہنچنا ہے۔ امیرالمؤمنین علیہالسلام نے حدیثِ معراج میں فرمایا: پیغمبر صلیاللہعلیہوآلہ نے شبِ معراج اپنے پروردگار سے سوال کیا: پروردگارا! روزے کا اجر کیا ہے؟
اللہ نے فرمایا: روزہ، حکمت لے کر آتا ہے؛ حکمت انسان کو معرفت تک پہنچاتی ہے اور معرفت یقین کا سبب بنتی ہے۔کیوں کہ جب بندہ یقین تک پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کے لیے فرق نہیں کرتا کہ اس نے اپنا دن فقر میں گزارا ہے یا پھر بے نیازی میں۔[6]
پیغمبر صلیاللہعلیہوآلہ کی شفاعت اور پلِ صراط سے گزرنا
ماہِ رمضان اور اس کے روزے کے فضائل میں روایات کے مطابق، وحشتِ قبر کا انسیت میں تبدیل ہوجانا، قبر سے نورانیت کے ساتھ نکلنا اور شفاعتِ پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ شامل ہے۔
ضحاک امیرالمؤمنین علیہالسلام سے روایت نقل کرتا ہےکہ رسول اللہ صلیاللہعلیهوآلہ نے فرمایا: شعبان میرا مہینہ ہے اور ماہِ رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔ پس جو بھی میرے مہینے میں روزہ رکھے گا تو میں روزِ قیامت اس کا شفیع قرار پاؤں گا اور جو بھی اللہ کے مہینے میں روزہ رکھے گا تو اللہ اس کی وحشتِ قبر کو اُنس میں تبدیل کرے گا، اس کی تنہائی کو اپنی انسیت سے جوڑ دے گا اور وہ اس حال میں اپنی قبر سے سفید اور نورانی چہرے کے ساتھ باہر آئے گا کہ اس کا نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں اور جنت میں جاودانگی کا پروانہ اس کے الٹے ہاتھ میں ہوگا۔
جب وہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہوگا تو اللہ فرمائے گا: اے میرے بندے!، بندہ کہےگا: "لبیک، اے میرے مالک!، اللہ پوچھے گا: کیا تم نے میرے لیے روزہ رکھا؟، بندہ جواب دے گا ہاں، میرے مالک!
پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس بندے کا ہاتھ پکڑو اور اسے اس کے پیغمبر کے پاس لے جاؤ!۔
اسے پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ کے پاس لایا جائے گا۔ پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ اس سے فرمائیں گے:کیا تم نے میرے مہینے میں روزہ رکھا؟ وہ جواب دے گا: جی، پھر پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ فرمائیں گے:میں آج، تمہاری شفاعت کروں گا۔پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے اپنے حقوق سے اپنے بندے کی خاطر درگزر کیا؛ لیکن لوگوں کے حقوق کے معاملے میں جو بھی اس سے درگزر کرے تو اس کا بدلہ میرے ذمے ہے یہاں تک کہ وہ راضی ہو جائے۔
رسول اللہ صلیاللہعلیهوآلہ نے فرمایا: پھر میں اس کے ہاتھ پکڑوں گا اور صراط لے کر جاؤں گا۔ صراط مجھے بہت زیادہ لرزتا ہوا نظر آئے گا، اس طرح کہ خطاکاروں کے پیر اس پر ثابت قدم نہ رہ سکیں گے۔ میں اس کا ہاتھ تھام لوں گا۔
صراط کا نگہبان مجھ سے پوچھے گا: اے پیغمبرِ خدا! یہ کون ہے؟ میں کہوں گا: یہ فلاں ہے، میری امت میں سے۔ اس نے دنیا میں میری شفاعت تک پہنچنے کے لیے، میرے مہینے میں روزہ رکھا اور اللہ کے وعدے تک پہنچنے کے لیے اللہ کے مہینے میں روزہ رکھا۔ پس وہ عفوِ الٰہی کے ساته صراط سے عبور کرے گا تاکہ دو جنتوں کے دروازے تک پہنچ جائے۔ میں حکم دیتا ہوں کہ جنت کو اس کے لیے کھول دیا جائے۔
رضوان جنت عرض کرے گا: ہم مامور ہیں کہ جنت کو آپ اور آپ کی امت کے لیے کھول دیں۔
راوی کہتا ہے: پھر امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا:پس پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ کے مہینے کا روزہ رکھو تاکہ وہ تمھارے شفیع ہو جائیں اور اللہ کے مہینے کا روزہ رکھو تاکہ خالص اور سراپا بہشتی شراب نوش کر سکو۔[7]
روزے کے مراتب
امیرالمؤمنین علیہالسلام کے نزدیک روزے کی حقیقی حیثیت باطنی تزکیہ اور معرفتِ الٰہی کے حصول میں پوشیدہ ہے۔روزہ صرف ایک جسمانی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ تربیت کا ایک کامل مجموعہ ہے جس کا آخری ہدف بندے کا اللہ کے سامنے اپنے اخلاص کو ثابت کرنا ہے۔
آپ افضل ترین کے بارے میں فرماتے ہیں:دل کا روزہ زبان کے روزے سے اور زبان کا روزہ شکم کے روزے سے بہتر ہے۔[8]
مولائے متقیان روح اور نفس کے روزے کے بارے میں فرماتے ہیں:روح کا روزہ، حواسِ پنجگانہ کو تمام گناہوں سے روکنا اور دل کو ہر قسم کے شر اور برائی کے اسباب سے پاک کرنا ہے۔[9]
[1] ۔ نہج البلاغہ، حكمت252
[2] ۔ نہج البلاغہ، خطبہ110
[3] ۔ نہج البلاغہ، خ192، خطبۂ قاصعہ
[4] ۔ غرر الحكم، 168
[5] ۔ امالی مفيد، 222 / 1، امالی طوسی، 8 / 8، كلاهما عن الفجيع العقيلی عن امام حسن عليهالسلام، بحار الانوار، 96 / 248 / 10
[6] ۔ ارشاد القلوب، ص203، بحار الانوار، 77 / 27 / 6
[7] ۔ فضائل الاشهر الثلاثة، 124 / 132 و ص 64 / 46، بحار الانوار، 97 / 83 54
[8] ۔ غررالحكم، ج1، ص417، ح80
[9] ۔ غررالحکم، ج1، ص417، ح79
