ائمہ معصومین نے اپنی روایات میں آخرالزمان کے لوگوں کے حالات کی مختلف علامتیں بیان فرمائی ہیں۔ جن میں بعض کی مذمت کی گئی ہے اور بعض کی مدح و تعریف۔
آخرالزمان
لفظ آخرالزمان دو عمومی معانی میں استعمال ہوا ہے:
- وہ زمانہ جو رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی ولادت سے شروع ہوا اور قیامت پر ختم ہوگا، اسی بنا پر آپ کو نبی آخرالزمان کہا جاتا ہے۔
- وہ دور جو امام زمانہ عجلاللہتعالیفرجہالشریف کی ولادت سے شروع ہوتا ہے، جس میں غیبت اور ظہور کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور قیامت پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
آخرالزمان کے لوگوں کی مذمت
بہت سی روایات میں آخرالزمان کے بعض لوگوں کی برائی بیان ہوئی ہے، جو اہل بیت علیہمالسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔
امیرالمومنین علیہالسلام فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ آئے گا:
-
جب چغل خور لوگوں کو مقرب اور بااثر سمجھا جائے گا۔
-
بدکار افراد کو ہوشیار اور دانا قرار دیا جائے گا۔
-
انصاف کرنے والوں کو کمزور اور ناتواں سمجھا جائے گا۔
-
صدقہ و خیرات کو نقصان اور خسارے کا باعث سمجھا جائے گا۔
-
رشتہ داروں سے تعلق احسان جتاکر قائم رکھا جائے گا۔
-
عبادت کو اللہ کی رضا کے بجائے فخر اور نمود کا ذریعہ بنایا جائے گا۔
-
اس دور میں حکومت عورتوں کے مشوروں اور بچوں کی قیادت سے چلائی جائے گی۔
-
خواجاؤں کی تدبیریں بھی حکومتی معاملات پر اثرانداز ہوں گی۔ [۱]
آخرالزمان کی عورتوں کی حالت
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
آخری زمانے میں ایسی عورتیں ظاہر ہوں گی جو بے پردہ اور بے حجاب ہوں گی۔ وہ اپنی زینت نمایاں کرتے ہوئے بازاروں میں گھومیں گی۔ وہ دین سے دور اور مختلف فتنوں میں مبتلا ہوں گی۔ وہ نفسانی خواہشات کی پیروی کریں گی اور حرام کو حلال سمجھیں گی۔ ایسی عورتوں کے بارے میں سخت وعید بیان ہوئی ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوں گی۔[۲]
علماء کی گمراہی
آپ علیہالسلام فرماتے ہیں:
آخرالزمان کے فقیہ اپنی خواہش کے مطابق فتویٰ دیں گے، قاضی لاعلمی میں فیصلے کریں گے، جھوٹی گواہی عام ہوگی، مالدار باعزت اور غریب ذلیل سمجھا جائے گا۔[۳]
دجال کا خروج
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا کہ دجال اس وقت ظاہر ہوگا جب:
-
نماز ترک کی جائے گی
-
امانت میں خیانت ہوگی
-
جھوٹ حلال سمجھا جائے گا
-
سود اور رشوت عام ہوگی
-
دین کو دنیا کے بدلے بیچا جائے گا
-
ظلم کو فخر سمجھا جائے گا[۴]
فساد کا پھیلاؤ
آپ فرماتے ہیں:
آخرالزمان کے لوگوں کے حالات یہ ہوگی کہ لوگوں کی فکر صرف پیٹ ہوگی، عزت مال سے ہوگی، قبلہ عورتیں ہوں گی، اور دین پیسے کے تابع ہوگا۔ یہ بدترین لوگ ہوں گے۔[۵]
اور فرمایا:
نہ بڑے کا احترام ہوگا نہ چھوٹے پر رحم، لوگ ایک دوسرے کو بلا وجہ قتل کریں گے۔[۶]
ظلم کی فراوانی
روایت میں ہے:
زمین ظلم سے بھر جائے گی یہاں تک کہ اللہ کا نام بھی علانیہ نہیں لیا جائے گا، پھر خدا نیک لوگوں کو لائے گا جو زمین کو عدل سے بھر دیں گے۔[۷]
جھوٹ کا رواج
امیرالمومنین علیہالسلام فرماتے ہیں:
قائم عجلاللہتعالیفرجہالشریف کے ظہور سے پہلے دھوکے کے سال آئیں گے، سچے جھوٹے اور جھوٹے سچے سمجھے جائیں گے، فریبی لوگ بااثر ہوں گے اور نااہل لوگ عوامی امور میں بولنے لگیں گے۔[۸]
آخرالزمان کے نیک لوگوں کی مدح
سخت حالات کے باوجود جو لوگ اپنے دین پر ثابت قدم رہیں گے ان کی بہت تعریف کی گئی ہے۔
امیرالمومنین علیہالسلام فرماتے ہیں:
غیبت کے زمانے میں دین پر وہی قائم رہیں گے جن کے دلوں میں یقین راسخ ہوگا اور جن پر اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہوگا۔[۹]
اور فرمایا:
جو اس دور میں دین پر ثابت قدم رہا وہ قیامت کے دن میرے درجے میں ہوگا۔[۱۰]
حوالہجات
[۱] نهج البلاغه، حکمت۱۰۲
[۲] من لا يحضره الفقيه، ج۳، ص۳۹۰
[۳] الزام الناصب فی اثبات الحجة الغائب (عجلاللهتعالىفرجهالشريف)، ج۲، ص۱۵۴
[۴] بحار الانوار، ج۵۲، ص۱۹۲ و ۱۹۳
[۵] کنزالعمال، ج ۱۱، ص۱۹۲، ح ۳۱۱۸۶ / منتخب الاثر فی امام الثانی عشر (عليهالسلام)، ج۳، ص۴۶
[۶] کنزالعمال، ج ۱۱، ص۱۹۲، ۳۱۱۸۷ / نهج الخلاص، ص ۴۲۷
[۷] بحار الانوار، ج ۵۱، ص۱۱۷
[۸] اثبات الهداة بالنصوص و المعجزات، ج۵، ص ۳۶۸
[۹] کمال الدین و تمام النعمه،ج ۱،ص۳۰۴
[۱۰] كمال الدين و تمام النعمه، ج۱، ص۳۰۳