یہ کورس اعلیٰ تعلیمی کمیٹی کی نگرانی میں شروع کیا گیا ہے۔ اس میں حرم مقدس کے شعبوں کے سربراہان اور ان کے معاونین شرکت کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد انتظامی مہارتوں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تنظیمی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ کوفہ یونیورسٹی کے استاد اور حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی اعلیٰ تعلیمی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر علی العبایجی نے مرکزِ خبری سے گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد اعلیٰ انتظامی سطح پر کام کرنے والے خدام اور ملازمین کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام چھ ماہ تک جاری رہے گا۔ یہ دو تربیتی مراحل پر مشتمل ہوگا اور مجموعی طور پر ۱۱ تعلیمی مضامین شامل ہوں گے۔
پہلے مرحلے میں پانچ جبکہ دوسرے مرحلے میں چھ مضامین پڑھائے جائیں گے۔ پروگرام کے پہلے روز دو خصوصی لیکچرز بھی دیے گئے۔ پہلے لیکچر میں انتظامی اور پیشہ ورانہ امور میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر گفتگو کی گئی۔ یہ لیکچر کوفہ یونیورسٹی کے شعبۂ امورِ علمی کے سربراہ ڈاکٹر جاسم کنانی نے دیا۔
دوسرے لیکچر میں انسانی وسائل کے انتظام کو موضوع بنایا گیا۔ یہ لیکچر استاد ڈاکٹر حامد النصراوی نے پیش کیا۔ ڈاکٹر جاسم کنانی نے بتایا کہ لیکچر میں انتظامی امور میں مصنوعی ذہانت کے آلات کے استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان آلات کے استعمال سے روزمرہ کاموں میں صرف ہونے والا وقت کم اور کام کا معیار بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے فیصلہ سازوں اور شعبوں کے سربراہان کے لیے ان جدید آلات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے شعبۂ امورِ انجینئرنگ و فنی امور کے سربراہ مصطفیٰ محبوبہ نے بھی پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام میں منصوبہ بندی اور منصوبوں کے قابلِ عمل ہونے کے مطالعات سمیت مختلف موضوعات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کورسز جدید انتظامی تصورات کو عملی سطح پر راسخ کرنے میں معاون ہیں۔ اس کے علاوہ ان سے کارکردگی میں بہتری، امور کی انجام دہی میں وقت کی بچت اور تنظیمی سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔
یہ پروگرام حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے خدام اور ملازمین کی پیشہ ورانہ و انتظامی صلاحیتیں بڑھانے کے منصوبوں کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے مختلف شعبوں میں کارکردگی بہتر بنانے اور تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔









