سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

واقعۂ قلم و کاغذ اور حدیث ثقلین

حضور صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے کچھ لوگوں کو بلایا اور بلا کر یہ کہا: "مجھے کاغذ اور قلم دو تاکہ وہ تحریر لکھ کر دوں کہ میرے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہونے پاؤ۔”

اب ایک شخص نے یہ کہا کہ "ان الرجل لیہجر” (نعوذ باللہ من ذلک)۔ یہ بخاری میں حدیث ہے! حضورِ مکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے سامنے کوئی یہ کہے یہ بھی نہیں کہ نبی یا رسول صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ بلکہ یہ کہے کہ "ایک مرد یہ ہذیان بک رہا ہے!”

لوگ یہ کہتے ہیں کہ پھر کیوں مولا علی علیہ‌السلام نے قلم و کاغذ نہیں دے دیا؟ دیکھیں! جب ایک شخص حضورِ مکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی دماغی حالت ہی کو مشکوک بنا دے، تو اس کے بعد حضور صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کچھ بھی لکھ کر دیں، اس کی کیا شرعی حیثیت باقی رہ جائے گی؟

کیونکہ جب یہ مشہور کر دیا جائے کہ (نعوذ باللہ) حضور صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی دماغی حالت ہی ٹھیک نہیں تھی، تو اس تحریر کی سند پر ہی سوال اٹھا دیا جاتا۔

بہرحال، پھر حضورِ مکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا: "إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي”

جو بات آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ لکھ کر دینا چاہتے تھے، وہ زبانی کہہ کر واضح فرما دی کہ: "میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں؛ ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری میری عترت (اہلِ بیت) ہے۔ جب تک ان سے متمسک رہو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔”

مآخذ
صحیح بخاری، کتاب العلم، باب ۳۹، ح۴ و کتاب المغازى، باب مرض النبى و وفاته، ح۴ و ح۵ و کتاب المرضى، باب۱۷، باب قول المريض قوموا عنى، ح۱

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے