رسولِ اسلام صلیاللہعلیہوآلہ کی روحِ مطہر ۲۸ صفر کو امیرالمومنین علیہالسلام کی آغوش میں بارگاہِ الٰہی کی جانب پرواز کر گئی۔ یوں رحمت عالم صلیاللہعلیہوآلہ اپنے پروردگار کے حضور تشریف لے گئے۔
شہادتِ رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے بعد مہاجرین و انصار کے بعض سرکردہ افراد سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے۔ وہاں آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی جانشینی کے مسئلے پر بحث و نزاع شروع ہوگئی۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے جسدِ اقدس کی غسل و کفن کی ذمہ داری سنبھالی۔
مولائے متقیان کے نام آخری وصیت
رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں آپ نے امیرالمومنین علیہالسلام سے کاغذ لانے کے لیے فرمایا۔ پھر آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے اپنی وصیت املا کرائی، جس میں اپنے بعد آنے والے جانشینوں کا تعارف کرایا۔
امیرالمومنین علیہالسلام روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی شہادت کی شب آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے مجھ سے فرمایا:
’’اے ابوالحسن! قلم اور کاغذ لے آؤ۔‘‘
پھر رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے اپنی وصیت املا فرمائی اور میں اسے لکھتا گیا۔ جب اس مقام پر پہنچے تو فرمایا:
’’اے علی! میرے بعد بارہ امام ہوں گے اور تم ان میں سب سے پہلے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں تمہیں ان ناموں سے پکارا ہے: علی مرتضیٰ، امیرالمؤمنین، صدیق اکبر، فاروق اعظم، مأمون اور مہدی؛ اور تمہارے سوا کوئی ان ناموں کا اہل نہیں۔
اے علی! میرے بعد تم میرے اہلِ خانہ، خواہ زندہ ہوں یا وفات پا چکے ہوں، اور میری ازواج کے بارے میں میرے وصی ہو۔ میری ازواج میں سے جسے تم اپنے نکاح میں باقی رکھو گے، وہ قیامت کے دن مجھ سے ملاقات کرے گی، اور جسے تم طلاق دو گے، میں اس سے بیزار ہوں؛ نہ وہ مجھے دیکھے گی اور نہ میں قیامت کے میدان میں اسے دیکھوں گا۔ اسی طرح تم میری امت پر میرے خلیفہ اور جانشین ہو۔ جب تمہاری وفات کا وقت آئے تو خلافت میرے فرزند حسن کے سپرد کرنا، جو نیکوکار اور صلۂ رحمی کرنے والے ہیں۔ ان کے بعد میرے فرزند حسین، وہ پاکیزہ شہید، خلافت سنبھالیں گے۔ جب حسین کی وفات کا وقت آئے تو اسے ان کے فرزند علی، سیدالعابدین اور سجدوں کے نشانات رکھنے والے، کے سپرد کرنا۔ پھر وہ اپنے فرزند محمد، باقرِ علم، کو یہ ذمہ داری دیں گے، اور وہ اپنے فرزند جعفر صادق کے سپرد کریں گے۔ ان کے بعد یہ منصب ان کے فرزند موسیٰ بن جعفر کاظم، پھر ان کے فرزند علی الرضا، پھر ان کے فرزند محمد تقی، اور ان کے بعد ان کے فرزند علی ناصح کو منتقل ہوگا۔ اس کے بعد وہ اپنے فرزند حسن فاضل کے سپرد کریں گے اور آخرکار وہ خلافت اپنے فرزند محمد کے حوالے کریں گے، جو آلِ محمد صلیاللہعلیہوآلہ کا ذخیرہ ہیں۔ یہی وہ بارہ امام ہیں جو میرے جانشین ہوں گے۔‘‘[۱]
خاندان نبوت کی شہادت کی پیش گوئی
رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں ایک اہم خبر دی۔ آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے اپنی اور اپنے اہلبیتِ اطہار علیہمالسلام کی شہادت کی بھی پیش گوئی فرمائی۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
’’ہم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر یہ کہ یا تو اسے زہر دیا جائے گا یا قتل کیا جائے گا۔‘‘[۲]
امیرالمومنین علیہالسلام اشک بار آنکھوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا آپ بھی شہید کیے جائیں گے؟‘‘
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
’’ہاں! مجھے زہر دیا جائے گا اور میں شہید کیا جاؤں گا۔ تم تلوار کے وار سے شہید ہوگے اور تمہاری داڑھی تمہارے سر کے خون سے رنگین ہوگی۔ میرا فرزند حسن زہر کے ذریعے شہید ہوگا اور میرا فرزند حسین تلوار سے قتل کیا جائے گا؛ اسے ایک ظالم کا ظالم بیٹا، ایک ناپاک کا ناپاک بیٹا اور ایک منافق کا منافق بیٹا شہید کرے گا۔‘‘[۳]
آخری ملاقات
رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری لمحات میں امیرالمومنین علیہالسلام کو خصوصی قرب حاصل تھا۔ آپ علیہالسلام وہ واحد شخصیت تھے جنہیں رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ سے خلوت اور نجی گفتگو کا شرف حاصل ہوا۔
امِّ سلمہ بیان کرتی ہیں:
’’اس ذات کی قسم جس کی قسم امِّ سلمہ کھاتی ہے، رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ سے آخری ملاقات اور آپ صلیاللہعلیہوآلہ کے ساتھ آخری وقت تک رہنے والے شخص امیرالمومنین علی علیہالسلام تھے۔ رسول خدا نے اپنی رحلت کی صبح علی کو ایک کام کے لیے بھیجا۔
آپ صلیاللہعلیہوآلہ بار بار فرماتے رہے:
کیا علی آئے؟
اور یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ آخرکار علی بن ابی طالب علیہالسلام طلوعِ آفتاب سے پہلے پہنچ گئے۔ جب ہمیں معلوم ہوا کہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کو ان سے خلوت میں گفتگو کرنی ہے تو ہم حجرے سے باہر نکل گئے۔ امیرالمومنین علیہالسلام رسول خدا کے بستر وفات کے قریب جھک گئے اور آپ صلیاللہعلیہوآلہکے ساتھ خلوت کرنے والے آخری شخص بنے۔ اس کے بعد رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ ان سے آہستہ آہستہ گفتگو اور سرگوشی فرماتے رہے۔‘‘[۴]
شہادت کے جان گداز لمحات
امیرالمومنین علیہالسلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۱۹۷ میں رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے آخری لمحاتِ حیات کو یوں بیان فرمایا:
’’رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ اس حال میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ آپ صلیاللہعلیہوآلہ کا سر میرے سینے پر تھا اور آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی روح میرے ہاتھ پر جاری ہوئی۔ پھر میں نے اپنے ہاتھ کو اپنے چہرے پر پھیرا۔ میں نے خود آپ صلیاللہعلیہوآلہ کو غسل دیا اور فرشتے میری مدد کر رہے تھے۔ گھر کی دیواریں، در و دیوار اور صحن سب نوحہ کناں تھے۔ فرشتوں کا ایک گروہ زمین پر اتر رہا تھا اور دوسرا آسمان کی طرف جا رہا تھا، اور میرے کان ان کی دھیمی آوازوں میں رسول خدا پر درود و سلام کی صداؤں سے خالی نہ تھے، یہاں تک کہ ہم نے آپ صلیاللہعلیہوآلہ کو قبر میں سپرد خاک کر دیا۔ کون ہے جو آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی حیات اور وفات، دونوں میں مجھ سے زیادہ آپ صلیاللہعلیہوآلہ کا حق دار ہو؟‘‘
رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی تدفین
رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی شہادت اصحاب و صحابہ کے لیے گہرے غم و اندوہ کا آغاز تھی۔ اس موقع پر مولائے متقیان نے اپنے قریبی رفقا کے تعاون سے آخری رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی وداع اور تدفین کے انتظامات انجام دیے۔ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمومنین علیہالسلام کی آغوش میں وفات پائی۔ امیرالمومنین علیہالسلام نے فضل بن عباس، اسامہ بن زید اور دیگر افراد کی مدد سے آپ صلیاللہعلیہوآلہ کو پیراہن سمیت غسل دیا اور کفن پہنایا۔ مولائے متقیان علیہالسلام کی تجویز پر لوگ گروہ در گروہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے گھر میں داخل ہوتے رہے۔ وہ کسی امام کی اقتدا کے بغیر آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی نمازِ جنازہ ادا کرتے رہے، اور یہ سلسلہ اگلے دن تک جاری رہا۔[۵][۶]
بعض روایات کے مطابق رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی تدفین کے مقام کے بارے میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی روحیں پاکیزہ ترین مقامات پر قبض فرماتا ہے۔
سب نے اس بات کو تسلیم کیا اور رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کو اسی مقام پر دفن کیا گیا جہاں آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے رحلت فرمائی تھی۔ ابوعبیدہ جراح اور زید بن سہل نے قبر تیار کی۔ امیرالمومنین علیہالسلام نے فضل بن عباس اور اسامہ بن زید کی مدد سے رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے جسدِ اقدس کو سپردِ خاک فرمایا۔[۷]
واقعۂ سقیفہ اور الٰہی آزمائش
رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی شہادت کے بعد امیرالمومنین علیہالسلام آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی تدفین میں مصروف تھے۔ اسی دوران بعض صحابہ سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمع ہوکر خلافت و جانشینی کے مسئلے پر گفتگو کرنے لگے۔ جب ابوبکر کی خلافت کا معاملہ طے ہوگیا اور لوگوں نے اس سے بیعت کرلی، تو ایک شخص امیرالمومنین علیہالسلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ علیہالسلام رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی قبر مبارک پر مٹی ڈال رہے تھے اور ہاتھ میں بیلچہ تھا۔ اس شخص نے کہا:
’’لوگوں نے ابوبکر سے بیعت کرلی ہے، انصار ذلت و خواری سے دوچار ہوگئے ہیں، جبکہ طلقاء، یعنی وہ لوگ جنہیں رسول خدا نے فتح مکہ کے موقع پر آزاد کیا تھا، اس خوف سے ابوبکر کی بیعت کی طرف تیزی سے بڑھ گئے ہیں کہ کہیں یہ مقام آپ علیہالسلام کو نہ مل جائے۔‘‘
امیرالمومنین علیہالسلام نے یہ خبر سنی تو بیلچے کا دستہ مضبوطی سے پکڑا اور اسے زمین میں گاڑ دیا، پھر سورۂ عنکبوت کی آیات ۲ تا ۴ کی تلاوت فرمائی:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ، الم، أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
’’کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ صرف یہ کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لائے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں ہوگی؟ ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اللہ ضرور ان لوگوں کو نمایاں کرے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی ظاہر کرے گا جو جھوٹے ہیں۔ کیا برائیاں کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے بچ نکلیں گے؟ بہت برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔‘‘[۸]
مآخذ
[۱] الغیبه طوسی، جلد۱، صفحۀ۱۵۰
[۲] کفایه الاثر، جلد۱، صفحۀ۲۲۶؛ بحار الانوار، جلد۲۷، صفحۀ۲۱۶؛ بحار الانوار، جلد۴۳، صفحۀ۳۶۳؛ اثبات الهداه، جلد۱، صفحۀ۳۴۴
[۳] کتاب سلیم، جلد۲، صفحۀ۸۳۴
[۴] بحار الانوار، جلد۲۲، صفحۀ۴۷۲
[۵] شیخ مفید، ارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۸۸
[۶] یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۱۱۴
[۷] اِربلی، کشف الغمه، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۱۹
[۸] بحار الانوار، جلد۲۴، صفحۀ۲۳۰