جابر امام محمد باقر علیہالسلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام حسین علیہالسلام نے شہادت سے پہلے اپنے اصحاب سے فرمایا: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے مجھ سے فرمایا:
"اے میرے بیٹے! تم عراق کی طرف جاؤ گے؛ وہ سرزمین جہاں انبیاء اور ان کے اوصیاء جمع ہوئے ہیں۔ اسے عموراء کہا جاتا ہے۔ تم وہاں شہید کیے جاؤ گے اور تمہارے ساتھی بھی تمہارے ساتھ شہید ہوں گے، جبکہ وہ تلوار کی تکلیف محسوس نہیں کریں گے۔”
پھر آپ علیہالسلام نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
«قُلْنَا یَا نَارُ کُونِی بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِیمَ» (سورۂ انبیاء، آیت ۶۹)
"ہم نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔”
جنگ تمہارے اور تمہارے اصحاب کے لیے بھی ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگی۔
امام حسین علیہالسلام کی اپنے اصحاب کو بشارتیں
تمہیں خوشخبری ہو! اگرچہ دشمن ہمیں قتل کریں گے، لیکن ہم اپنے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔
میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہوگی۔ میں امیرالمؤمنین علیہالسلام کے خروج، قائم علیہالسلام کے قیام اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی زندگی کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوں گا۔
جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور فرشتوں کا ایک گروہ مجھ پر نازل ہوگا۔
حضرت محمد، میرے بابا علی، میرے بھائی حسن، اور وہ تمام لوگ جن پر اللہ نے اپنا احسان فرمایا ہے، نورانی اونٹوں پر سوار ہو کر اتریں گے، جن پر کسی مخلوق نے سواری نہیں کی۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اپنا پرچم بلند کریں گے اور اپنی تلوار کے ساتھ اسے ہمارے قائم علیہالسلام کے سپرد کریں گے۔
مولا کی تلوار سے دنیا کی فتح
کچھ عرصے بعد اللہ تعالیٰ مسجدِ کوفہ میں تیل، دودھ اور پانی کے چشمے جاری فرمائے گا۔ پھر امیرالمؤمنین علیہالسلام مجھے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی تلوار عطا کریں گے اور مجھے مشرق و مغرب کی طرف روانہ کریں گے۔
میں کسی دشمن کو باقی نہیں چھوڑوں گا مگر اس کا خون بہاؤں گا، اور کسی بت خانے کو نہیں دیکھوں گا مگر اسے آگ لگا دوں گا، یہاں تک کہ ہندوستان تک پہنچ جاؤں گا اور اسے فتح کر لوں گا۔
دانیال اور یونس علیہماالسلام امیرالمؤمنین علیہالسلام سے کہیں گے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا۔
یاران بصرہ اور روم کی طرف جائیں گے اور اللہ فتح کو ان کے نصیب میں کرے گا۔
زمین کی پاکیزگی اور شیعوں کی کرامت
میں تمام حرام گوشت جانوروں کو قتل کر دوں گا تاکہ زمین پاک ہو جائے۔
یہود و نصاریٰ کو اسلام اور تلوار میں سے ایک کا حقِ انتخاب دوں گا؛ جو اسلام قبول کرے گا، اس پر احسان کیا جائے گا، اور جو روگردانی کرے گا، اس کا خون بہایا جائے گا۔
کوئی شیعہ ایسا نہیں ہوگا مگر اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا تاکہ اس کے چہرے سے خاک صاف کرے اور جنت میں اس کا مقام اسے دکھائے۔
کوئی نابینا، درماندہ یا کسی بیماری میں مبتلا شخص نہیں ہوگا مگر اللہ ہمارے اہل بیت کے وسیلے سے اس کی مصیبت دور کر دے گا۔
آسمان سے برکتیں اس طرح نازل ہوں گی کہ درخت پھلوں کی کثرت سے جھک جائیں گے؛ سردیوں کے پھل گرمیوں میں اور گرمیوں کے پھل سردیوں میں کھائے جائیں گے۔
یہی اس آیت کا مفہوم ہے: «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» (سورۂ اعراف، آیت ۹۶)
"اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔”
شیعوں کی عظیم کرامت و بزرگی
اللہ ہمارے شیعوں کو ایسی کرامت عطا فرمائے گا کہ زمین کی کوئی چیز ان سے پوشیدہ نہیں رہے گی؛ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں کے حالات جاننا چاہے گا تو اللہ اسے اس سے آگاہ کر دے گا۔
مآخذ
مختصر البصائر، ج۱ ، ص ۱۳۹