سورج کی کرنیں آہستہ آہستہ ماند پڑتی جارہی ہیں، آسمان کا نیلا رنگ گہرا ہوتا جارہا ہے، روزے کی کمزوری بدنوں پر اثر ڈالے ہے، انہیں لمحوں میں ایک روح پرور نغمہ فضا میں گونجتا ہے، گویا آسمان شب عبادت کے زمزموں سے لبریز ہو جاتا ہے، کون جان سکتا ہے کہ ہمارے مولا، امام المتقین، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہالسلام، افطار کے لمحہ میں اپنے معبود سے کس کیف و سوز کے ساتھ ہمکلام ہوتے تھے، اور بندگی کی کس شان میں جلوہگر ہوتے تھے۔
رمضان المبارک کا مہینہ ان کم نظیر اوقات میں سے ہے جو اپنی خاص روحانیت اور نورانی فضا کے سبب دلوں کو بدل دیتا ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہر سانس، روح کو تازگی بخشتی ہے اور دل کے زنگاروں کو دھو ڈالتی ہے، اس مہینے کا ہر لمحہ قیمتی ہے؛ گویا خداوندِ کریم کسی بہانے کا منتظر ہے کہ اپنے بندوں پر درِ رحمت و مغفرت کھول دے اور ان کی تشنہ جانوں کو اپنے عشق و نور سے سیراب کرے، یہ مہینہ عبادت، دعا، سحر و افطار کی معنویت سے لبریز ہے یہاں تک کہ وہ دل بھی جو معرفتِ روزہداری سے بیگانہ ہیں، اس ضیافتِ الٰہی کی گرمی میں بیٹھنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ مہینہ ہے جس کی خاص عبادت — روزہ — ایسی عبادت ہے جس میں ریا کی کوئی گنجائش نہیں، روزہ دار تنہائی میں، صرف اپنے خالق کی خاطر، خواہشاتِ نفسانی کو ترک کرتا ہے جیسا کہ حدیثِ قدسی میں آیا ہے:
« الصومُ لي وأنا أجزي به [1]»
"روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں۔”
پس مؤمن جب روزہ رکھتا ہے تو وہ فقط اپنے محبوبِ حقیقی کے لیے رکھتا ہے اور ماہِ رمضان کے آغاز سے ہی وہ حضرتِ حق کی ضیافت پر بیٹھ جاتا ہے — ایسی ضیافت جو معرفت، یقین، طہارت اور تزکیۂ نفس کے خوانوں سے بھری ہوئی ہے۔
ایسے نورانی ماحول میں، جب دل عبادت کے لطف میں محو ہو، وہ دعائیں جو امیرالمؤمنین علیہالسلام جیسے اولیاء کے لبوں سے نکلیں، عبد و معبود کے درمیان ایک بے مثل رابطہ قائم کرتی ہیں، انہیں زمزموں میں سے ایک وہ دعا ہے جسے ہم سب نے بارہا افطار کے وقت دہرایا ہے، مگر شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ مناجات دراصل حضرت علی علیہالسلام سے منقول ہے:
«اللّهُمَّ لَکَ صُمْنا وَعَلی رِزْقِکَ اَفْطَرْنا فَتَقَبَّلْ مِنّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمیعُ الْعَلیم»[2]
ترجمہ: "پروردگارا! ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا، پس ہم سے قبول فرما، بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔”
یہ وہی دعا ہے جو ہم میں سے ہر ایک نے افطار کے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے، کبھی دھیمے لہجے میں، کبھی دل کی گہرائیوں میں، بارہا دہرائی ہے۔ یہ وہ دعا ہے جو روزے دار کی تھکی ہوئی روح کو مطمئن کر دیتی ہے، دل کے اندر روشنی اور سکون بھرتی ہے، اور پھر جب وہ ایک گھونٹ پانی یا ایک دانہ کھجور سے افطار کرتا ہے، تو گویا بندگی کے ایک دن کا سفر مکمل کر لیتا ہے۔
اگر ہم اس دعا کے معانی پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ بندہ افطار کے لمحے میں عاجزی کے ساتھ اپنی ساری انانیت سے خالی ہو کر، اپنے خالق کے حضور سرِ نیاز جھکاتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ اس کی ساری عبادت صرف خدا کے لیے ہے اور رزق دینے والا بھی وہی ہے پھر تمنا کرتا ہے کہ پروردگار! میری یہ عبادت اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور جب یہ دعا لبوں سے ادا ہوتی ہے، تو دل کو یہ یقین نصیب ہوتا ہے کہ وہ سنا گیا ہے، دیکھا گیا ہے، اور رحمتِ الٰہی کے دائرے میں داخل ہو چکا ہے۔
