سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

رمضان المبارک کے تقدس کا لحاظ اور بے احترامی کرنے والوں کو امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے ہاتھوں سزا

رمضان المبارک کے تقدس کا لحاظ اور بے احترامی کرنے والوں کو امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے ہاتھوں سزا

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی سیرتِ انفرادی اور شخصی پہلوؤں کے مقابلے میں آپ کی سیاسی و اجتماعی زندگی پر زیادہ گفت و شنید ہوئی ہے۔ یہ غفلت صرف محققین اور مؤرخین کی کوتاہی کا نتیجہ نہیں بلکہ حالاتِ زمانہ اور اس دور کے سیاسی و اجتماعی پس منظر نے بھی اس امر کو تقویت دی کہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی فردی و عبادی سیرت کم نمایاں رہی۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی سیرتِ انفرادی اور شخصی پہلوؤں کے مقابلے میں آپ کی سیاسی و اجتماعی زندگی پر زیادہ گفت و شنید ہوئی ہے۔ یہ غفلت صرف محققین اور مؤرخین کی کوتاہی کا نتیجہ نہیں بلکہ حالاتِ زمانہ اور اس دور کے سیاسی و اجتماعی پس منظر نے بھی اس امر کو تقویت دی کہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی فردی و عبادی سیرت کم نمایاں رہی۔

مسجد، ایک اجتماعی اور سیاسی مرکز

رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌و‌آلہ‌ اور امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کی مساجد سے انسیت صرف عبادت تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ انسیت معاشرتی اور سیاسی حیثیت بھی رکھتی تھی، باوجود اس کے کہ خوارج اور معاویہ کے پیروکاروں کی طرف سے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی جان کو سخت خطرات لاحق تھے، آپ رمضان المبارک کے ایام میں بغیر کسی محافظ کے مسجد میں تشریف لے جاتے،اسی کے پیش نظر خوارج نے آپ کو مسجد میں شہید کرنے کی سازش رچی۔[1]

رمضان المبارک میں آپ راستے میں لوگوں کو صدا دیتے: ’’الصلاة، الصلاة‘‘ اور انہیں مسجدوں میں حاضر ہونے کی دعوت دیتے، آپ اس مقدس مہینے میں جامع مسجد اور دیگر مساجد کا دورہ فرماتے تھے۔[2]

ان دوروں میں آپ نے مساجد کی چراغانی کرنے، ان میں قرآن کی تلاوت کرنے جیسی نیک سنتوں کو صرف پسند فرماتے تھے۔[3]

 مذکورہ بالا نیک سنتوں کی تصدیق فرمانے کے ساتھ ساتھ آپ مساجد میں وضو اور طہارت کے لیے جگہ مخصوص کرنے اور عورتوں اور بچوں کی سہولتوں کا انتظام کرنے پر بھی تاکید فرماتے تھے۔[4]

 روایت میں آیا ہے کہ عرفجہ ثقفی نامی صحابی کو آپ نے ماہِ رمضان میں عورتوں کی نماز کے لیے امام جماعت مقرر فرمایا۔[5]

معاشرتی حقوق میں مذہبی علامتوں کا تحفظ

ائمہ اطہار علیہم‌السلام کی سیرت میں ان ایام اور عبادتی موسموں کے تقدس کا پاس رکھنے کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔
امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے روایات میں یہاں تک فرمایا کہ رمضان المبارک میں کھانے پینے سے پرہیز نہ صرف روزہ دار پر لازم ہے بلکہ وہ مسافر جو بعد از زوال اپنے وطن لوٹ آئے اور وہ خواتین جو شرعی عذر کی بنا پر روزہ نہ رکھ سکیں، ان کے لیے بھی رمضان میں کھانے پینے سے اجتناب بہتر ہے، تاکہ اس مقدس مہینے کا تقد پامال نہ ہو۔[6]،[7]

تقدس رمضان المبارک کے تحفظ کے سلسلے میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا ایک نمایاں اقدام ان لوگوں کی سزا میں اضافہ تھا جو اس مہینے کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے جس کی ایک واضح مثال قیس بن عمرو حارثی ہیں جو نجاشی کے لقب سے مشہور تھا، وہ کوفہ کا معروف شاعر اور صفین میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا سپاہی تھا، اپنی شاعرانہ مہارت اور قبیلوی شرافت کی وجہ سے عراق و شام کی ادبی و سماجی رقابت میں اہم مقام رکھتے تھے اور کوفہ میں اس کی موجودگی کو غنیمت سمجھا جاتا تھا۔[8]

لیکن جب نجاشی نے رمضان المبارک میں کوفہ کے اطراف میں شراب نوشی کی، تو امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے نہ اس پر صرف شرعی حد جاری کی بلکہ رمضان کی حرمت شکنی پر بیس کوڑے مزید لگانے کا حکم دیا۔

 اس سخت سزا کی وجہ سے وہ معاویہ کے لشکر میں شامل ہوگیا اور  امیرالمؤمنین علیہ‌السلام  نیز کوفہ و عراق کے خلاف ہجو گوئی کرنے لگا۔

جب نجاشی نے حضرت سے پوچھا کہ اس کی سزا میں اضافہ کیوں کیا گیا، تو آپ نے نہایت رقت انگیز اور عبرت آموز کلمات فرمائے:
اس لیے کہ تو نے خدا کے مقابلے میں جرأت دکھائی اور رمضان المبارک کے تقدس کو پامال کیا، حالانکہ ہمارے بچے تک روزے دار ہیں اور تو رمضان کے تقدس کا پاس نہیں رکھتا۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے