امیرالمؤمنین علیہالسلام کی حیاتِ طیبہ کے انفرادی پہلوؤں کی نسبت، آپ کی اجتماعی و سیاسی سیرت پر زیادہ گفتگو کی گئی ہے۔
امیرالمؤمنین علیہالسلام زمانے کے حالات اور اس دور کی پیچیدہ سیاسی و اجتماعی فضا نے بھی اس امر میں دخیل رہ کر آپ کی ذاتی سیرت و فردی عبادات کو کم آشکار رکھا۔
شرعی ذمہ داریوں کے عقیدتی، عرفانی اور اخلاقی مسائل کو اجاگر کرنا
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے ایک خطبے میں رمضان المبارک کو اس مہینے سے تعبیر کیا جس میں آسمان کے در کھل جاتے ہیں اور شیاطین قید کر لیے جاتے ہیں۔[1]
رسول خدا صلیاللهعلیهوآله کی سیرت کو بنیاد بناتے ہوئے آپ نے رمضان المبارک کے آخری عشرے کو اعتکاف اور شب بیداری کے لیے بہترین فرصت قرار دیا۔
آپ کے نزدیک بھوک و پیاس کی آزمائش اس مہینے کی سب سے آسان عبادت تھی، مگر جب یہی پرہیز انسان کو دیگر محرمات سے دوری کی قوت عطا کرے تو یہی روزہ حقیقی اور ثمرآور ٹھہرتا ہے۔
ایک اور روایت میں آپ نے رسول خدا صلیاللهعلیهوآله کے کلام مبارک کا سہارہ لیتے ہوئے روزہ کو اولین عبادت قرار دیا اور فرمایا: روزے کی میراث حکمت ہے، حکمت کی میراث معرفت ہے اور معرفت کی میراث یقین ہے۔ اس حدیث شریف میں یقین کو قربِ الٰہی کی بلندترین منزل قرار دیا گیا ہے؛ ایسی منزل کہ موت کے بعد بندہ اس مقام پر فائز ہوتا ہے جہاں اس کے اور پروردگار کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا اور اس لمحے خدا خود اس کی دید کا مشتاق ہوتا ہے۔[2]
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے دیگر احادیث میں اہلِ ایمان کو وصیت کی کہ رمضان المبارک میں اپنے اعضاء و جوارح، حرکات و سکنات پر سخت نگرانی رکھیں، آپ نے اس مبارک مہینے کی ہر شب و روز کی مخصوص عبادات پر تاکید فرمائی اور شبِ قدر، پہلی شب اور شبِ عید فطر کے اعمال کو خصوصی طور پر یاد فرمایا۔[3]
آپ نے لوگوں کو اس مہینے میں استغفار اور دعا کی دعوت دی جو آفات کو دور کرنے اور گناہوں کو محو کرنے والی ہے۔[4]
بدعتوں کے خلاف جہاد
دور حاضر میں بعض دینی رسومات اس قدر تحریف و انحراف کا شکار ہو گئی ہیں کہ نہ صرف صاحبانِ علم بلکہ عام دیندار افراد بھی ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں مگر جب ہم امیرالمؤمنین علیہالسلام کی سیرت خصوصاً آپ کے دورانِ حکومت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ملتا ہے کہ آپ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے فراہم ہونے والے مواقع کو غنیمت جانتے ہوئے کوفہ اور دیگر بلادِ اسلامیہ میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی اصلاحات نافذ کیں، اگرچہ اجتماعی رسوم و مناسبتوں میں اصلاحات نسبتا کم ہو سکیں، لیکن جہاں ضرورت پیش آئی وہاں آپ نے سختی سے بدعتوں کو ختم کیا۔
شیخ طوسی امام جعفر صادق علیہالسلام سے روایت کرتے ہیں کہ جب امیرالمؤمنین علیہالسلام کوفہ تشریف لائے تو آپ نے اپنے فرزند امام حسن مجتبیٰ علیہالسلام کو حکم دیا کہ لوگوں کو ماہِ رمضان میں مستحب نمازوں کو جماعت کی صورت (یعنی تراویح) میں ادا کرنے سے منع کریں۔[5] مگر عوام نے شور مچایا اور ’’واعمراه‘‘کی صدائیں بلند ہونے لگیں، یہ صدائے احتجاج خود اس حقیقت کا اعلان تھی کہ تراویح کے بانی خلیفۂ اول تھے اور اس کی بنیاد کسی نصِ دینی یا سنتِ رسول خدا صلیاللهعلیهوآله پر نہیں تھی۔[6]
پس امیرالمؤمنین علیہالسلام نے کوفہ میں داخل ہوتے ہی رمضان المبارک کے آغاز میں سب سے پہلی اصلاح یہی کی کہ لوگوں کو اس بدعت سے روک دیا، رسول اکرم صلیاللهعلیهوآله نے بھی اس قسم کی بدعتوں کے بارے میں پہلے ہی ارشاد فرمایا تھا: یہ سب معصیت ہیں، یاد رکھو! ہر بدعت، خواہ وہ عبادت ہی کے نام پر کیوں نہ ہو، گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم کی آگ ہے، تمہارے لیے مختصر اور آسان سنت کہیں بہتر ہے طویل و دشوار بدعت سے۔[7]
