سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حضرت ابوطالب علیہ‌السلام

حضرت ابوطالب علیہ‌السلام: رسول اکرم کے صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ عظیم حامی اور مؤمن کامل

حضرت ابوطالب علیہ‌السلام رسول اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے کفیل اور اسلام کے سب سے بڑے حامی تھے۔ آپ کی ایمان افروز سیرت، شعب ابی طالب میں قربانیاں اور دین الٰہی کے لیے ایثار تاریخ اسلام کا روشن باب ہے۔

تعارف

حضرت ابوطالب علیہ‌السلام رسول اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے کفیل اور اسلام کے سب سے بڑے حامی تھے۔ آپ کی ایمان افروز سیرت، شعب ابی طالب میں قربانیاں اور دین الٰہی کے لیے ایثار تاریخ اسلام کا روشن باب ہے۔

اسلام کی تاریخ میں بعض ایسی شخصیات ہیں جن کے کردار کے بغیر دین کا سفر ممکن نہ تھا، ان میں سرفہرست حضرت ابوطالب علیہ‌السلام ہیں، جو رسول اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے کفیل، مددگار اور اسلام کے سب سے بڑے حامی رہے، آپ کی سیرت ایثار، شجاعت اور وفاداری کی درخشاں مثال ہے۔

خود امیرالمومنین علیہ‌السلام نے فرمایا:

قسم بخدا! اگر میرے والد ابوطالب علیہ‌السلام نہ ہوتے تو دین کبھی قائم نہ رہتا۔

نسب و کنیت

آپ کا اصل نام عبد مناف اور کنیت ابوطالب تھی،والد کا نام عبدالمطلب بن ہاشم اور والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو بن عائذ تھا۔ [۱]

کفالت رسول اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ

حضرت عبدالمطلب علیہ‌السلام کی وفات کے بعد، رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی کفالت اور پرورش ابوطالب علیہ‌السلام کے سپرد ہوئی۔

تاریخ میں آیا ہے:جب جناب عبدالمطلب علیہ‌السلام کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی کفالت ابوطالب علیہ‌السلام نے سنبھالی۔[۲]

ایمان ابوطالب علیہ‌السلام

شیعہ علما کے نزدیک حضرت ابوطالب علیہ‌السلام مؤمن کامل تھے۔ ان کے اشعار آپ کے ایمان کی روشن دلیل ہیں۔

شعر ابوطالب علیہ‌السلام:

یہ روشن چہرہ (محمد صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ‌) ہے جس کے وسیلے سے بارش طلب کی جاتی ہے، یہ یتیموں کا سہارا اور بیواؤں کا محافظ ہے۔[۳]

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی گواہی

امیرالمومنین علیہ‌السلام سے مروی ہے:

اگر میرے والد ابوطالب علیہ‌السلام نے رسول اللہ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی کفالت نہ کی ہوتی تو اسلام کا ستون کبھی قائم نہ ہوتا۔[۴]

شعب ابی طالب

جب کفار قریش نے مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا تو حضرت ابوطالب علیہ‌السلام نے رسول خدا اور مسلمانوں کو شعب ابی طالب میں پناہ دی۔ تین برس تک سخت محاصرے میں رہنے کے باوجود اپنی حمایت سے پیچھے نہ ہٹے۔[۵]

وفات اور عامُ الحُزن

حضرت ابوطالب علیہ‌السلام بعثت کے دسویں سال ماہ رجب میں مکہ مکرمہ میں وفات پاگئے۔ اسی سال حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا بھی دنیا سے رخصت ہوئیں۔ اس وجہ سے رسول اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) قرار دیا۔

رسول اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

کسی نے میری ایسی مدد نہیں کی جیسی ابوطالب نے کی۔[۶]

رسول اللہ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

جب تک ابوطالب زندہ رہے، قریش مجھے اذیت دینے سے ڈرتے تھے۔[۷]

اعتقادی نتیجہ

حضرت ابوطالب علیہ‌السلام کا کردار محض ایک قبیلے کے سردار کا کردار نہیں تھا بلکہ وہ اسلام کے حقیقی حامی اور مؤمن کامل تھے۔ ان کے اشعار، سیرت اور رسول اللہ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی گواہی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کی بنیادوں میں حضرت ابوطالب علیہ‌السلام کا ایثار اور قربانی شامل ہے۔

[۱] مناقب آل ابی طالب، ج۱، ص۳۰
[۲] السيرة النبوية، ج۱، ص۱۹۰
[۳] السيرة النبوية، ج۱، ص۲۴۵
[۴] بحارالانوار، ج۳۵، ص۱۱۰
[۵] السيرة النبوية، ج۱، ص۳۵۰
[۶] الأمالی، ص۳۲۴
[۷] إعلام الورى، ص۱۰

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے