سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت کے ابلاغ کی آیت

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۶۷، جو آیت تبلیغ کے نام سے مشہور ہے اور اس کا تذکرہ زیارت غدیریہ میں بھی آیا ہے، روایات میں صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ یہ واقعۂ غدیر خم اور رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کی خلافت و جانشینی کے لیے امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے باقاعدہ منصبِ امامت پر فائز کیے جانے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۶۷ ان تین اہم ترین آیات میں سے ایک ہے۔ جو غدیر خم کے واقعے کے سلسلے میں براہ راست پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ پر نازل کی گئی ہیں۔ مکتب تشیع اور اہل سنت کے کثیر منابع و مصادر کے مطابق، وہ اہم پیغام جسے رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کو اس آیت کی رو سے امت تک پہنچانے کا قطعی حکم دیا گیا تھا۔ وہ امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی ولایت و امامت کا اعلان تھا۔

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۶۷

«يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ»

اے رسول صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر نازل کیا گیا ہے (اسے امت تک) پہنچا دیجیے، اور اگر آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اس کا کوئی پیغام پہنچایا ہی نہیں؛ اور اللہ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو لوگوں کے (شر اور گزند) سے محفوظ رکھے گا، یقیناً اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔

زیارت غدیریہ کے ایک نہایت معرفت آمیز فراز (حصے) میں آیا ہے:

اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ‌السلام کے حق میں اپنے نبی کی دعا کو مستجاب فرمایا، پھر اس نے نبی کو یہ حکم دیا کہ وہ ان تمام فضائل و کمالات کا اظہار فرمائیں جن کی بدولت آپ علیہ‌السلام امت پر حکومت و ولایت کے سزا وار ٹھہرے؛ تاکہ آپ علیہ‌السلام کی شان و منزلت بلند ہو، آپ علیہ‌السلام کی دلیل و برہان سب پر عیاں ہو جائے، باطل کا قلع قمع ہو اور (مخالفین کے) حیلے بہانے ختم ہو جائیں۔ پس جب رسول خدا کو اہل فسق کے فتنہ و آشوب کا اندیشہ ہوا اور منافقین کے خوف سے آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اس معاملے میں (مصلحت آمیز) تاخیر کرنا چاہی، تو رب العالمین نے آپ پر وحی نازل فرمائی:

اے رسول صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ! جو کچھ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے پروردگار کی طرف سے [یعنی امت پر علی بن ابی‌طالب علیہ‌السلام کی امامت و ولایت کے تقرر کے بارے میں] آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجیے! اور اگر آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ہی نہیں! اور اللہ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو لوگوں کے [شر] سے محفوظ رکھے گا۔ (مائدہ/۶۷)

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۶۷ غدیر خم کے مقام پر نازل ہونے والی ان آیات علوی میں سے ہے جو پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کو اس امر سے آگاہ کرتی ہے کہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت و امامت کا اعلان نہ کرنا، پوری رسالت الٰہی کو ادھورا چھوڑ دینے اور اسے نہ پہنچانے کے مترادف ہے۔

امام علی نقی‌ علیہ‌السلام نے عید غدیر کے دن امیر‌المومنین علیہالسلام کی زیارت کے دوران آیت تبلیغ کے نزول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے:

سلام ہو آپ علیہ‌السلام پر اے میرے مولا و سرپرست، اے امیر‌المومنین علیہ‌السلام! ۔۔۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ علیہ‌السلام ہی اللہ تعالیٰ کی مدح و ثنا سے مخصوص کیے گئے، آپ علیہ‌السلام نے اللہ کی اطاعت میں خالص ترین اخلاص کا مظاہرہ کیا، ہدایت کے حصول کے لیے آپ علیہ‌السلام نے (حق کا) کوئی متبادل تلاش نہ کیا اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا؛ اور [میں گواہی دیتا ہوں] کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ‌السلام کے بارے میں اپنے نبی صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌کی دعا کو مستجاب فرمایا۔

پھر اللہ نے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنی امت کے سامنے آپ علیہ‌السلام کی برتری اور ولایت کو آشکار کریں، تاکہ آپ علیہ‌السلام کے شأن و مرتبے کو بلند کرے، آپ علیہ‌السلام کی روشن دلیل (برہان) کو عیاں کرے، تمام باطل نظریات کو مٹا دے اور (مخالفین کے حیلے اور) عذرخواہیاں ختم کر دے۔ پس جب رسول خدا کو فاسقوں کے فتنہ و آشوب کا اندیشہ ہوا اور آپ علیہ‌السلام منافقین کے مکر سے ہوشیار ہوئے، تو رب العالمین نے آپ علیہ‌السلام پر وحی نازل فرمائی:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ

چنانچہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اس راستے کی تمام سنگین اور بھاری ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھائیں، اور تپتی ہوئی دوپہر کے وقت کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا، سب کے کانوں تک اپنی آواز پہنچائی، بلند آواز سے پکارا اور الٰہی پیغام کا ابلاغ فرمایا۔

پھر آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے ان سب سے پوچھا: کیا میں نے (خدا کا پیغام) پہنچا دیا؟

سب نے کہا: خدا کی قسم! ہاں۔

نبی نے عرض کی: بار الہا! تو گواہ رہنا۔

پھر رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا: کیا میں مؤمنین کی جانوں پر ان سے زیادہ حق اور سزاواری نہیں رکھتا؟

سب نے عرض کی: ہاں، آپ سب سے زیادہ سزاوار ہیں۔

تب آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے آپ (علی علیہ‌السلام) کا ہاتھ تھاما اور بلند کر کے فرمایا:

جس جس کا میں سرپرست اور صاحبِ اختیار ہوں، یہ علی (علیہ‌السلام) بھی اس اس کے سرپرست اور صاحبِ اختیار ہیں۔ اے اللہ! تو اس سے دوستی رکھ جو علی سے دوستی رکھے، اس سے دشمنی رکھ جو علی سے دشمنی رکھے، اس کی مدد فرما جو علی کی مدد کرے، اور اسے خوار و رسوا کر جو علی کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے۔ مگر اس کے بعد، جو کچھ اللہ نے آپ علیہ‌السلام کے بارے میں اپنے نبی پر نازل فرمایا تھا، اس پر سوائے ایک قلیل جماعت کے کوئی ایمان نہ لایا، اور ان کے کثیر لوگوں کے لیے (اس حکم نے) سوائے خسارے کے کچھ نہ بڑھایا۔[‍۱]

امام محمد باقر علیہ‌السلام نے سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۶۷ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اللہ عزوجل نے اپنے نبی کو امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت کا حکم دیا اور آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر یہ آیت نازل فرمائی:

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ

(تمہارا سرپرست تو صرف اللہ، اس کا رسول اور وہ مؤمنین ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں)؛ اور یوں خدا نے اولوالام کی ولایت کو فرض قرار دیا، مگر لوگ نہیں جانتے تھے کہ یہ ولایت کیا ہے؟

اللہ نے حضرت محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کو حکم دیا کہ وہ ان کے لیے ولایت کی اسی طرح تفسیر و وضاحت کریں جس طرح انہوں نے نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج کی تفسیر فرمائی تھی۔ پس جب اللہ کی جانب سے یہ (ولایت کا قطعی) حکم نازل ہوا، تو رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ اس حکم کی وجہ سے دلگیر (فکرمند) ہوئے اور ڈرے کہ کہیں لوگ اپنے دین سے پھر نہ جائیں اور انہیں جھٹلا نہ دیں۔

وہ فکرمند ہوئے اور اپنے پروردگار عزوجل کی طرف رجوع کیا (یعنی مصلحتِ وقت کے تحت کچھ توقف فرمایا)۔

تب اللہ نے یہ آیتِ کریمہ آپ پر وحی فرمائی:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ

چنانچہ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم فرما دیا۔ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے غدیرِ خم کے دن ولایت کا منصب امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے سپرد فرمایا۔

پھر ندا دی کہ: نمازِ باجماعت کھڑی ہونے والی ہے اور لوگوں کو حکم دیا کہ جو یہاں حاضر ہیں وہ یہ پیغام ان تک پہنچا دیں جو یہاں غائب ہیں۔[۲]

ابن عباس نے سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۶۷ کے شانِ نزول کے بارے میں روایت کی ہے کہ:

آیت: يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ غدیر خم کے دن امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی شان میں نازل ہوئی تھی۔[۳]

مآخذ
[۱] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۴، ص۱۶۴ بحار الانوار، ج۵۱، ص۹۷
[۲] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۴، ص۱۴۴ الکافی، ج۱، ص۲۸۹/ نورالثقلین
[۳] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۴، ص۱۵۰ بحار الانوار، ج۳۷، ص۱۵۵/ بحار الانوار، ج۳۷، ص۱۹۰/ بشارهْ المصطفی، ص۲۴۳/ شواهدالتنزیل، ج۱، ص۲۵۱/ الطرایف، ج۱، ص۱۵۲/ العمدهْ، ص۱۰۰/ المناقب، ج۳، ص۲۱/ البرهان

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے