سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمومنین اور وفائے عہد

مولائے متقیان علیہ‌السلام کی مانند عہد الہی سے وفاداری

سورہ فتح کی آیت نمبر ۱۰، جس کا تذکرہ زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں بھی آیا ہے، درحقیقت واقعۂ غدیر خم اور امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے مقام امامت و ولایت کو بیان کرتی ہے۔ یہ آیتِ کریمہ رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کے ہاتھ پر کی جانے والی بیعت کو خدا کی بیعت قرار دیتی ہے اور (بارگاہ الٰہی میں کیے گئے) عہد و پیمان پر قائم رہنے اور وفاداری اختیار کرنے کی سخت تاکید فرماتی ہے۔

روایات کے مطابق، اس آیت میں بیعت رضوان کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کو (امامت و ولایت سے) انحراف نہ کرنے اور رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ کے احکامات کی مطلق پابندی کے ساتھ مشروط قرار دیا گیا ہے۔

سورہ فتح کی آیت نمبر ۱۰: امیرالمومنین اور وفائے عہد

«إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْراً عَظِيماً»

(اے رسول!) یقیناً جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ پھر جس نے عہدوپیمان کو توڑا، اس نے اپنی ہی جان کا نقصان کیا اور جس نے اس عہد کو پورا کیا جو اس نے اللہ سے کیا تھا، تو عنقریب اللہ اسے اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔

امام علی نقی علیہ‌السلام کی روایت کے مطابق، زیارت غدیریہ میں ان آیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیات امیرالمومنین علیہ‌السلام کے بلند و بالاتر مقام و مرتبے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔

زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ علیہ‌السلام نے اللہ تعالیٰ کے عہدوپیمان کو پورا کیا اور اللہ تعالیٰ بھی آپ علیہ‌السلام کے ساتھ کیے گئے اپنے عہدوپیمان کو پورا کرنے والا ہے۔ (جیسا کہ ارشاد الہی ہے):

اور جس نے اس عہد کو پورا کیا جو اس نے اللہ سے کیا تھا، تو عنقریب [اللہ] اسے اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔(فتح/۱۰)

سورہ فتح کی آیت نمبر ۱۰ قرآن کریم کی ان آیات میں سے ہے جو فضائلِ علوی پر دلالت کرتی ہیں اور اسے آیات بیعت میں شمار کیا جاتا ہے، جس کی تبیین (وضاحت) امیر‌المومنین علیہ‌السلام سے منسوب تفاسیر میں کی گئی ہے۔ کثیر مفسرین نے اس بیعت کو اسلام میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے محوری کردار اور ان کی اطاعت کی ناگزیریت سے جوڑا ہے۔

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے ایک روایت میں سورۂ فتح کی اسی آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اپنے والد گرامی امام علی ہادی علیہ‌السلام سے نقل کیا ہے:

جب عباسی خلیفہ معتصم نے آپ علیہ‌السلام کو (سامرا) طلب کیا، تو آپ علیہ‌السلام عید غدیر کے دن امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے اور ارشاد فرمایا:

جب بھی تم زیارت کا ارادہ کرو، تو بارگاہ شریف کے آستانے پر کھڑے ہو کر اذن دخول (اندر آنے کی اجازت) پڑھو، پھر اپنا دایاں پاؤں اندر رکھو اور ضریح مبارک کے بالکل قریب پہنچ کر اس کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاؤ، اس طرح کہ قبلہ تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان (یعنی تمہاری پشت کی سمت) ہو، اور یوں کہو: ۔۔۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ علیہ‌السلام اللہ کے عہد پر قائم رہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی آپ علیہ‌السلام کے لیے اپنے عہد کو پورا فرمایا؛ (جیسا کہ قرآن میں ہے):

وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْراً عَظِيماً۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ علیہ‌السلام ہی حق و سچائی کے ساتھ وہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام ہیں جن کی ولایت کا تذکرہ خدا نے قرآن میں فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ نے آپ علیہ‌السلام ہی کے لیے امت سے عہدوپیمان لیا تھا۔

مآخذ
تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۴، ص۴۵۰ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۵۹

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے