سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

مولائے متقیان (علیہ‌السلام) کی شجاعت سے یہودِ بنی قریظہ کا خوف

غزوئہ بنی قُرَیظہ، مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کے غزوات میں سے آخری غزوے کا نام ہے، جو ۲۳ ذی القعدہ سنہ ۵ ہجری کو بنی قریظہ کے یہودیوں کی عہد شکنی اور غزوئہ خندق (احزاب) میں مشرکین کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کی وجہ سے رونما ہوا۔

جنگِ احزاب کی تمام تر سازشیں حضرت امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کی بے مثال قربانی اور قربان فداکاری، اور یہودیوں کے (ذہنی و فکری) پشت پناہ عمرو بن عبدود کی ہلاکت کے ساتھ ہی خاک میں مل گئیں، جس کی وجہ سے بنی قریظہ کی پوزیشن سخت خطرے میں پڑ گئی۔

پرچمِ اسلام کی عطا

سنہ ۵ ہجری میں، پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) نے اپنے اصحاب کے ہمراہ، اس عہد شکن قوم کو تنبیہ کرنے اور مدینہ کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک لشکر بنی قریظہ کے قلعوں کی طرف روانہ کیا تاکہ اس خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے، اور آپ (ص) نے ان کے دژوں (قلعوں) کا محاصرہ کر لیا۔

پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) نے حضرت امیر‌المؤمنین علی (علیہ‌السلام) کو طلب فرمایا اور غزوئہ بنی قریظہ کا علمدار منتخب کرتے ہوئے پرچم ان کے سپرد کیا۔ یہ وہی مقتدر پرچم تھا جو غزوئہ خندق میں استعمال ہوا تھا اور اس وقت سے لے کر اب تک لپٹا ہوا تھا (کھولا نہیں گیا تھا)۔ یہ اقدام رسولِ خدا (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کی نظر میں امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کے خاص اور بلند مرتبے کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ [۱]

بنی قریظہ کا محاصرہ

یہودیوں کا خیال تھا کہ یہ محاصرہ بہت جلد ختم ہو جائے گا، لیکن یہ سلسلہ ۲۵ راتوں تک طول پکڑ گیا اور آخرکار امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی طرف سے ملنے والی سخت دھمکی کے بعد وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔
جب محاصرہ طویل ہوا، تو امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) نے بلند آواز میں کلمۂ شجاعت بلند کرتے ہوئے فرمایا:
"خدا کی قسم! یا تو میں اپنے چچا (سید الشہداء) حضرت حمزہ کی طرح جامِ شہادت نوش کروں گا، یا پھر اس قلعے کو فتح کر کے دم لوں گا۔”
آپ (علیہ‌السلام) کی اس صریح اور غیورانہ دھمکی نے قلعہ بند یہودیوں کے دلوں پر ایسا رعب طاری کیا کہ انہوں نے فوراً اعلان کر دیا کہ وہ (قبیلۂ اوس کے سردار) جنابِ سعد بن معاذ کا فیصلہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس طرح بنی قریظہ بیرونی ثالثی اور حکمیت کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہو گئے۔[۲]

امیر المؤمنین (ع) کا مہم جویانہ مشن

جب جنگِ احزاب میں لشکرِ کفار فرار ہو گیا، تو رسولِ خدا (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) نے یہودیوں کی طرف رخ کیا۔ آپ (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) نے امیر المؤمنین (علیہ‌السلام) کو قبیلۂ خزرج کے ۳۰ افراد کے ہمراہ روانہ فرمایا تاکہ وہ جا کر صورتحال کا جائزہ لیں کہ آیا بنی قریظہ اب بھی اپنے قلعوں میں موجود ہیں یا فرار ہو چکے ہیں۔
جب امیر المؤمنین (علیہ السلام) ان کے قلعوں کی دیواروں کے قریب پہنچے، تو آپ نے ان کی زبان سے رسولِ خدا (ص) اور خود اپنی ذاتِ گرامی کے حق میں بیہودہ باتیں اور دشنام طرازی سنیں۔ آپ (علیہ‌السلام) نے واپس آ کر رسولِ اکرم (ص) کو پوری صورتحال سے آگاہ فرمایا۔

پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کا محکم فرمان

پیغمبرِ خدا (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) نے امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:
"انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، عنقریب اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر فتح عطا فرمائے گا۔ وہ پروردگار جس نے تمہیں عمرو بن عبدود پر فتح دی، وہ تمہیں کبھی تنہا اور رسوا نہیں کرے گا۔ تم اسی جگہ پڑاؤ کرو اور لوگوں کے تم سے ملنے کا انتظار کرو۔ میں تمہیں اللہ کی نصرت کی خوشخبری دیتا ہوں؛ خدا دشمنوں کے دلوں میں تمہارا ایسا رعب اور وحشت پیدا کر کے تمہاری مدد فرمائے گا (کہ ان کے قدم اکھڑ جائیں گے)۔”

بنی قریظہ پر طاری ہونے والا خوف

حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) فرماتے ہیں:
"لوگ میرے گرد جمع ہو گئے اور میں لشکر لے کر آگے بڑھا یہاں تک کہ بنی قریظہ کے قلعوں کی دیواروں کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ انہوں نے دیواروں کے اوپر سے سر ابھار کر دیکھا، اور جیسے ہی ان کی نظر مجھ پر پڑی، تو ان میں سے ایک نے چیخ کر کہا: ‘عمرو کا قاتل آ گیا!’
دوسرے نے پکارا: ‘عمرو کو واصلِ جہنم کرنے والا تمہاری طرف آ پہنچا ہے!’ وہ سب ایک دوسرے کو یہی جملہ کہہ کر خبردار کر رہے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں شدید خوف و ہراس ڈال دیا۔ اسی اثناء میں، میں نے قلعے کے اندر سے کسی کو یہ رجز پڑھتے ہوئے سنا:
‘علی نے عمرو کو قتل کر ڈالا / علی نے عقاب کا شکار کر لیا / علی نے دشمن کی پیٹھ توڑ دی / علی نے ادھورے کام کو پائے تکمیل تک پہنچایا / علی نے (دشمن کا) پردہ چاک کر دیا’۔”

بنی قریظہ کی بدزبانی

امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) مزید فرماتے ہیں:
"میں نے دل میں کہا: ‘تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اسلام کو سرخرو کیا اور شرک و بت پرستی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔’ جب میں بنی قریظہ کی طرف روانہ ہو رہا تھا، تو پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) نے مجھے فرمایا تھا: ‘اللہ کی برکت اور امید کے سہارے آگے بڑھو؛ کیونکہ خدا نے تمہیں ان کی زمینوں، گھروں اور املاک کا وارث بنانے کا وعدہ فرمایا ہے۔’
میں خدائے عزوجل کی نصرت پر کامل یقین اور اطمینان کے ساتھ آگے بڑھا، یہاں تک کہ میں نے جنگ کا پرچم ان کے قلعے کی دیوار کے نیچے گاڑ دیا۔ وہ قلعے کے اندر ہمارے سامنے آئے اور انہوں نے (شدید غصے اور مایوسی میں) رسولِ خدا (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کی شان میں گستاخی شروع کر دی۔
جب میں نے ان کے یہ گستاخانہ کلمات سنے، تو مجھے یہ بات سخت ناگوار گزری کہ یہ الفاظ رسولِ اللہ (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کے کانوں تک پہنچیں۔ میں نے چاہا کہ واپس پلٹ کر آپ (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کو وہیں روک دوں، لیکن میں نے دیکھا کہ آنحضرت (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) خود تشریف لے آئے ہیں اور ان کی بدزبانی سن کر آپ (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) نے جلال میں آ کر بلند آواز سے فرمایا: ‘اے بندروں اور سوروں کے بھائیو! ہم جب بھی کسی قوم کے آنگن میں اترتے ہیں، تو ان ڈرائے جانے والوں کا دن سیاہ ہو جاتا ہے!'”[۳]

رئیسِ بنی قریظہ کا ٹرائل (محاکمہ)

"حیی بن اخطب” اس زمانے میں یہود اور بنی قریظہ کا سب سے بڑا رئیس اور سردار تھا۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھا جو پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کی شدید ترین مخالفت کرتے تھے اور اسلام و مسلمانان دشمنی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ اسے قیدی بنا کر محاکمے کے لیے امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کی بارگاہ میں لایا گیا۔
(اپنی عبرت ناک موت کو سامنے دیکھ کر) اس نے کہا:
"اس طرح مارا جانا بھی ایک شرافت ہے؛ کیونکہ یہ موت ایک انتہائی شریف اور عالی مرتبت مرد (علی) کے ہاتھوں واقع ہو رہی ہے۔”[۴]
امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) نے اس شخص سے پوچھا جو حیی بن اخطب کو لے کر آ رہا تھا: "جب تم اسے راستے سے لا رہے تھے، تو یہ کیا کہہ رہا تھا؟”
اس شخص نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہا تھا:
"خدا کی قسم! میں پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) سے دشمنی کرنے پر خود کو ملامت نہیں کرتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسے اللہ ذلیل کرنا چاہے، وہ ذلیل ہو کر رہتا ہے۔ ابنِ اخطب نے جہاں تک ہو سکا کوشش کی اور ہر اس راستے پر دوڑا جہاں سے عزت مل سکتی تھی (مگر کامیاب نہ ہو سکا)۔”
ان کلمات سے صاف ظاہر تھا کہ اسے رسولِ خدا (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کی مخالفت پر ذرہ برابر بھی ندامت نہیں تھی۔
چنانچہ امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) نے ارشاد فرمایا:
"ابنِ اخطب نے اپنے کفر پر قائم رہنے میں آخری حد تک کوشش کی، پس اسے ذلت کے ساتھ لوگوں کے سامنے ہمارے پاس لایا گیا؛ اور میں نے اپنی تلوار سے اس کا کام تمام کر دیا۔ بالآخر وہ دست بستہ قعرِ جہنم میں جا گرا۔ کافروں کا ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ یہی ہے، جبکہ جو کوئی اللہ کی اطاعت کرے گا، وہ ہمیشہ رہنے والی جنت میں داخل ہوگا۔”

امیر المؤمنین (ع) کا اشعار پڑھنا

حیی بن اخطب پر شرعی حکمِ الٰہی نافذ کرنے کے بعد، امیر‌المؤمنین علی بن ابی‌طالب (علیہ‌السلام) نے اس متعصب یہودی کے شوم اور عبرت ناک انجام کے بارے میں چند اشعار کہے۔ ان ابیات میں آپ (علیہ‌السلام) نے اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ حیی بن اخطب نے اسلام کے خلاف جنگ پر کبھی پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا اور زندگی کے آخری لمحے تک اپنے کفر اور عداوت پر بضد رہا۔ آپ (علیہ‌السلام) نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حیی بن اخطب اپنے کفر، سرکشی اور بغاوت کی وجہ سے عذابِ الٰہی کا شکار ہوا اور ذلت کے ساتھ دوزخ کے گڑھے میں جا گرا۔[۵]
حیی بن اخطب کا یہ عبرت ناک انجام اور موت سے قبل اس کے یہ کلمات، اسلام اور پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کے خلاف یہودی سرداروں کی گہری اور تاریخی عداوت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس واقعے نے مدینہ منورہ میں بنی قریظہ کی طاقت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا اور اس شہرِ مقدس پر مسلمانوں کی حاکمیت اور پوزیشن کو مستحکم و ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔

مآخذ
[۱] المغازی، جلد ۲، صفحۀ ۴۹۷
[۲] السیرة النبویه، جلد ۳، صفحۀ ۲۵۰ / تاریخ طبری، جلد ۲، صفحۀ ۲۴۶
[۳] الارشاد مفید، جلد ۱، صفحۀ ۱۰۹
[۴] الارشاد مفید، جلد ۱، صفحۀ ۹۹
[۵] الارشاد، جلد ۱، صفحۀ ۱۱۲

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے